دروازے بڑھانے میں کوئی مضائقہ نہیں تھا لیکن بات یہاں آ کر اٹک گئی کہ تعداد بڑھائی جائے تو بڑھا کر کتنی کی جائے؟ پھر زیادہ دروازے مزید سمتوں کو جنم دیتے، یوں شاہی محل کے تمام قدیم قطب نما ناکارہ ہو کر رہ جاتے۔ جید علما و وزرا کی مجلس بٹھا کر مزید سمتوں کے ناموں کا تعین کرنا پڑتا۔ لہٰذا طے یہ پایا...