وہ کون سی منزل تھی کل رات جہاں میں تھا
ہر چیز ہی بسمل تھی ، کل رات جہاں میں تھا
کس شان کی محفل تھی ، کل رات جہاں میں تھا
کونین کا حاصل تھی ، کل رات جہاں میں تھا
ذروں کی جبینوں پر تاروں کا گماں گرا
ہر شے مہِ کامل تھی ، کل رات جہاں میں تھا
اک دیدہ حیراں تھا ، ہر عضوِ بدن اپنا
کیا چیز مقابل تھی...
بے حجابانہ درآ از درِ کاشانۂ ما
کہ کسے نیست بجز درد تو در خانۂ ما
بے ججاب آپ چلے آئیے کاشانے میں
آپ کے غم کے سوا کون ہے غم خانے میں
گر بیائی بسرِ تربت ویرانۂ ما
بینی از خون جگر آب شدہ خانۂ ما
گر تو آجائے مری تربتِ ویراں پہ کبھی
خونِ دل دیکھے گا ارزاں مرے کاشانے میں
فتنہ انگیز مشو کاکلِ...
width برابر نہیں ہے ز کا نقطہ بھی دیکھو۔ جبکہ مندرجہ ذیل تصویر میں width برابر ہے اور صرف جمیل نستعلیق میں height میںاضافہ کیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ گلف ایک دوسرے کے اوپر منطبق نہیں ہو رہے;)
اکثر نعتیہ کلام میں " تو" ، "تجھ" ، "تم" "تیرا" مستعمل ہیں۔ کیا ان کے لیے ایسے متبادل الفاظ موجود ہیں جو زیادہ مودب ہوں اور وہ ان ( تو" ، "تجھ" ، "تم" "تیرا" ) سے ہم وزن بھی ہوں تا کہ متعلقہ کلام بے وزن بھی نہ ہو۔
اس سے دو مختلف فانٹ کی گلائفز کا تقابل کیا جاسکتا ہے کہ ان میں کس قدر مماثلت یا تفاوت ہے۔
مزید یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ آیا a نستعلیق ، b نستعلیق کی کاپی تو نہیں؟