توبہ توبہ کوئی حد ہوتی ہے سینہ زوری کی، وہ تو خیر ہوئی کہ سلسلۂ 'یوسفیہ' کے مریدین موجود ہیں جگہ جگہ وگرنہ لوگ تو انکے کام پر بھی ہاتھ صاف کرنے کو مشتاق ہیں ;)
خلل پزیر بَوَد ہر بنا کہ می بینی
بجز بنائے محبّت کہ خالی از خلل است
(حافظ شیرازی)
خلل پزیر (بگاڑ والی) ہے ہر وہ بنیاد جو کہ تُو دیکھتا ہے، ما سوائے مَحبّت کی بنیاد کہ وہ (ہر قسم کے) خلل سے خالی ہے۔
بھائی میں نے آپ کو صرف اپنی بات بتائی تھی، اگر آپ اپنی غزل کو صحیح کرنا چاہتے ہیں تو بصد شوق، اور اگر نہیں بھی کرنا چاہتے تو آپ کا کلام ہے، آپ کی غزل ہے اور آپ کی مرضی ہے، جو چاہے کیجیئے محترم۔
گاہے گاہے باز خواں ایں دفترِ پارینہ را
تازہ خواہی داشتن گر داغ ہائے سینہ را
(شاعر: نا معلوم)
کبھی کبھی یہ پرانے قصے پھر سے پڑھ لیا کر، اگر تُو چاہتا ہے کہ تیرے سینے کے داغ تازہ رہیں۔
خرم بھائی ایک بات یاد رکھنے کی ہے اور وہ یہ کہ فکر بالکل بھی نہیں کرنی۔
میرے ساتھ خود اسطرح کا ایک واقعہ ہوا تھا، ایک غزل میں نے بڑے شوق اور لگن سی کہی اور وہ مجھے پسند بھی بہت تھی لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ میں اسکی ردیف میں کچھ غلطی کر گیا تھا، اسکے بعد میں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح اس کو...
بسازِ حادثہ ہم نغمہ بُودن آرام است
اگر زمانہ قیامت کُنَد تو طوفان باش
(مرزا عبدالقادر بیدل)
حادثہ کے ساز کے ساتھ ہم نغمہ ہونا (سُر ملانا) ہی آرام ہے، اگر زمانہ قیامت بپا کرتا ہے تو تُو طوفان بن جا۔
شورے شُد و از خوابِ عدم چشم کشودیم
دیدیم کہ باقیست شبِ فتنہ، غنودیم
(غزالی مشہدی)
ایک شور بپا ہوا اور ہم نے خوابِ عدم سے آنکھ کھولی، دیکھا کہ شبِ فتنہ ابھی باقی ہے تو ہم پھر سو گئے۔
من تو شُدم تو من شُدی، من تن شُدم تو جاں شُدی
تا کس نہ گوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری
(امیر خسرو دہلوی)
میں تُو بن گیا ہوں اور تُو میں بن گیا ہے، میں تن ہوں اور تو جان ہے۔ پس اس کے بعد کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں اور ہوں اور تو اور ہے۔