مرثیہ نمبر 3
(گزشتہ سے پیوستہ)
بولی اٹھا کے سر کو یہ مادر جگر فگار
واللہ تم سے یہ نہ توقع تھی میں نثار
کام آئے سب وغا میں عزیز و رفیق و یار
تم نے چچا سے کیوں نہ لیا حکمِ کارزار
کیا قہر ہے کہ شاہ سے اذنِ وغا نہ لو
زینب کے لال قتل ہوں اور تم رضا نہ لو
کس کس نے دی نہ آن کے شہ کے قدم میں...