شکریہ نظامی صاحب، اس شعر کی بحر، بحرِ رمل مثمن محذوف اور وزن فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن یا فاعلان ہے۔
تقطیع کرنے سے پہلے یہ عرض کردوں کہ مجھے خطوں کے ناموں وغیرہ کا کچھ علم نہیں ہے، اور دوسرے مصرعے میں جو 'توقیع' بر وزنِ توقیر پڑھا جا رہا ہے اس کو بحر کے لحاظ سے تَوقّیع' یعنی تَ وق قیع'...