مرثیہ نمبر 3
(گزشتہ سے پیوستہ)
مطلعِ سوم
جب سب رفیق حقِ نمک کر چکے ادا
مرنے کی پھر خوشی سے عزیزوں نے لی رضا
وہ بھی ہوئے شہید تو رونے کی ہے یہ جا
قاسم تھے اور حضرتِ عبّاس با وفا
تھے سامنے جو لاشۂ پُر خوں دھرے ہوئے
تکتے تھے فوجِ شام کو آنسو بھرے ہوئے
مشغول تھے بکا میں شہنشاہِ ذی وقار...