زیک، اردو ٹیک کی واپسی کے بعد، میں نے ایک تحریر لکھی ہے لیکن وہ سیارہ پر ظاہر نہیں ہوئی، کیا آپ اسے دیکھ سکتے ہیں پلیز، میرے بلاگ کا ربط یہ ہے
http://waris.urdutech.net/
شکریہ!
مغل صاحب ایک بات طے ہے کہ بے بحر و بے وزن کلام شاعری میں شمار نہیں ہوتا، اس کو رنگ کوئی بھی پہنایا جائے۔ اور نہ ہی نثری نظم کو شاعری مانا جاتا ہے!
شاعری کی تعریفیں آپ پڑھ چکے تو ان کو دہرانا لا یعنی اور بے حاصل ہے۔
تجربہ اور چیز ہے اور مبادیات اور اصولوں کو صریحاً بدل دینا چیزے دیگری ہے،...
برادرم آپ نے تو اپنی شاعری سے کشتوں کے پشتے لگا دیئے ہیں، واہ واہ واہ، کیا قافیے ہیں کیا اوجِ خیال ہے، کیا حقیقت پسندی ہے، لا جواب۔
یار لوگوں کا نہ جانے کیا حال ہے
:rollingonthefloor: :rollingonthefloor: :rollingonthefloor:
خُسرَوَم برسَرِ ہر کُو شُدہ رُسوائے جہاں
طرفہ کاندوہِ ترا محرمِ اسرار شُدَم
(امیر خسرو دھلوی)
خسرو، ہر گلی کوچے میں رسوائے جہاں ہے اور طرفہ (حیرانگی وغیرہ) یہ کہ یہ سب اس وقت سے جب سے وہ تیرے غم کا محرمِ اسرار (واقف کار) ہوا ہے!
بہت اچھا کرتے ہیں آپ کام چھوڑ کر، فراغت میں کوئی کام نہیں کرنا چاہیے :)
اچھی آزاد نظم ہے، اور آپ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ آپ نے اس نظم کو وزن میں رکھنے کا قصد کیا اور اس میں کامیاب رہے، فقط ایک مصرعہ تھوڑی گڑ بڑ کر رہا ہے:
تذبذب کے اک عالم میں
اس کو اگر دیکھ سکیں تو چاند پر یہ دھبا بھی...
اجی واہ واہ، آپ کی شاعری داد سے بالا تر ہے، کیا قافیہ ہے، کیا راگ ہے، کیا ہمارے بھاگ ہیں واہ واہ، آج تو جس وقت بھی محفل پر آیا، لا جواب چیزیں ہی دیکھنی کو ملیں، دو آتشہ چھوڑ، سہ آتشہ، چہار آتشہ ہو گئی ہے :)