ایک تازہ غزل سب احباب کی خدمت میں دست بدستہ پیش کر رہا ہوں امید ہے اپنی قیمتی رائے سے اس خاکسار کو نوازیں گے۔
تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے
دنیائے بے نمو میں پھرایا گیا مجھے
میں آنکھ سے گرا تو زمیں کے صدف میں تھا
بہرِ جمالِ عرش اُٹھایا گیا مجھے
سازش میں کون کون تھا، مجھ کو نہیں ہے علم...