جب تک خلشِ دردِ خدا داد رہے گی
دنیا دلِ ناشاد کی آباد رہے گی
دنیا کی ہوا راس نہ آئے گی کسی کو
ہر سر میں ہوائے عدم آباد رہے گی
چونکائے گی رہ رہ کے تو غفلت کا مزہ کیا
ساتھ اپنے اجل صورتِ ہمزاد رہے گی
دل اور دھڑکتا ہے ادب گاہِ قفس میں
شاید یہ زباں تشنۂ فریاد رہے گی
جو خاک کا پُتلا، وہی صحرا کا...
رنگ لاتی ہے آخر ایک جُنبشِ لب کیا
دیکھئے دکھاتا ہے وعدۂ مذبذب کیا
چُلّو بھر میں متوالی، دو ہی گھونٹ میں خالی
یہ بھری جوانی کیا، جذبۂ لبالب کیا
ہاں دعائیں لیتا جا، گالیاں بھی دیتا جا
تازگی تو کچھ پہنچے، چابتا رہوں لب کیا
شامت آ گئی آخر کہہ گیا خدا لگتی
راستی کا پھل پاتا، بندۂ مقرّب کیا
اُلٹی...
ہنوز زندگیٔ تلخ کا مزا نہ ملا
کمالِ صبر ملا صبر آزما نہ ملا
مری بہار و خزاں جس کے اختیار میں ہے
مزاج اس دلِ بے اختیار کا نہ ملا
جواب کیا، وہی آوازِ بازگشت آئی
قفس میں نالۂ جانکاہ کا مزا نہ ملا
امیدوارِ رہائی قفس بدوش چلے
جہاں اشارۂ توفیقِ غائبانہ ملا
ہوا کے دوش پہ جاتا ہے کاروانِ نفَس
عدم کی...
کارگاہِ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے
اک طرف اُجڑتی ہے، ایک سمت بستی ہے
بے دلوں کی ہستی کیا، جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
خواب ہے نہ بیداری، ہوش ہے نہ مستی ہے
کیمیائے دل کیا ہے، خاک ہے مگر کیسی؟
لیجیے تو مہنگی ہے، بیچیے تو سستی ہے
خضرِ منزل اپنا ہوں، اپنی راہ چلتا ہوں
میرے حال پر دنیا، کیا سمجھ کے ہنستی...
حُسن پر فرعون کی پھبتی کہی
ہاتھ لانا یار کیوں کیسی کہی
دامنِ یوسف ہی بھڑکاتا رہا
عشق اور ترکِ ادب اچھی کہی
کوئی ضد تھی یا سمجھ کا پھیر تھا
من گئے وہ، میں نے جب اُلٹی کہی
درد سے پہلے کروں فکرِ دوا
واہ یہ اچھی الٹوانّسی کہی
دوست سے پردہ کیا یہ کیا کیا
آپ بیتی چھوڑ جگ بیتی کہی
شک ہے کافر کو...
مجھے دل کی خطا پر یاس شرمانا نہیں آتا
پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا
بُرا ہو پائے سرکش کا کہ تھک جانا نہیں آتا
کبھی گمراہ ہو کرراہ پر آنا نہیں آتا
مجھے اے ناخدا آخر کسی کو منہ دکھانا ہے
بہانہ کر کے تنہا پار اُتر جانا نہیں آتا
مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا
مجھے سر مار کر تیشے سے...
خودی کا نشہ چڑھا، آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا
پیامِ زیرِ لب ایسا کہ کچھ سنا نہ گیا
اشارہ پاتے ہی انگڑائی لی، رہا نہ گیا
ہنسی میں وعدۂ فردا کو ٹالنے والو
لو دیکھ لو وہی کل آج جن کے آ نہ گیا
گناہِ زندہ دلی کہیے یا دل آزاری
کسی پہ ہنس لئے اتنا کہ پھر ہنسا نہ گیا
سمجھتے...
لذّتِ زندگی مُبارک باد
کل کی کیا فکر؟ ہر چہ بادا باد
اے خوشا زندگی کہ پہلوئے شوق
دوست کے دم قدم سے ہے آباد
دل سلامت ہے، دردِ دل نہ سہی
درد جاتا رہا کہ درد کی یاد؟
زیست کے ہیں یہی مزے واللہ
چار دن شاد، چار دن ناشاد
کون دیتا ہے دادِ ناکامی
خونِ فرہاد برسرِ فرہاد
صبر اتنا نہ کر کہ دشمن پر
تلخ...
کلامِ یگانہ
کس کی آواز کان میں آئی
دُور کی بات دھیان میں آئی
ایسی آزاد رُوح اس تن میں
کیوں پرائے مکان میں آئی
آپ آتے رہے بلاتے رہے
آنے والی اک آن میں آئی
ہائے کیا کیا نگاہ بھٹکی ہے
جب کبھی امتحان میں آئی
علم کیا، علم کی حقیقت کیا
جیسی جس کے گمان میں آئی
یہ کنارہ چلا کہ...
یگانہ ایک قادر الکلام شاعر تھے لیکن جب وہ پچھلی صدی کے اوائل میں عظیم آباد سے ہجرت کر کے لکھنؤ آئے تو لکھنؤ والوں نے ان کی بالکل ہی قدر نہ کی۔ اس وقت لکھنؤ والے اپنے برے سے برے شاعر کو بھی باہر والے اچھے سے اچھے شاعر کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دیتے تھے اور یگانہ چونکہ "باہر والے" تھے سو لکھنؤ...
اصلاحِ سخن میں بھی کوئی قابلِ قدر کام اس سال نہیں ہوا، لیکن بہرحال نامزدگیاں، اگر یہ ایوارڈ دینا ہی ہے تو، کچھ یوں ہیں
-راقم
-عمران نیازی
-محمد اظہر نذیر
2010 بہترین شاعر/شاعرہ کیلیے نامزدگیاں۔
اس سال، افسوس کہ، بہت زیادہ شاعری یہاں پوسٹ نہیں کی گئی لیکن بہرحال نامزدگیاں بلحاظِ حروفِ تہجی:
- خاور چودھری
- زھرا علوی
- سلیمان جاذب
- عمران شناور
- فاتح
- محمود احمد غزنوی
موڈریٹرز اور ناظمین کو اس سال محفل پالیسی کے مطابق نامزد نہیں کیا جا رہا، ورنہ اوپر والے احباب کے علاوہ ان موڈریٹرز نے بھی پسندیدہ کلام میں قابلِ قدر اضافہ کیا ہے، جس کیلیے میں ان کا ممنون ہوں لیکن افسوس کہ نامزد نہیں کر سکتا :)
- سخنور (فرخ) (موڈریٹر محفلِ ادب)
- فرحت کیانی (موڈریٹر لائبریری)...
پچھلے سال جولائی تا جون کی عمومی کارکردگی کو سامنے رکھتے ہوئے پسندیدہ کلام کیلیے میری نامزدگیاں حسبِ ذیل ہیں۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ اس سال تقریباً ایک ہزار نئے تھریڈز 'پسندیدہ کلام' میں شروع کیے گئے اور سب کے سب منفرد کہ مکرر تھریڈز یکجا ہو جاتے ہیں، واہ بھئی واہ اتنی شاعری :)
نامزدگیوں کے...
شکریہ محمود صاحب، مذکورہ مصرعے میں تیسرا لفظہ "پشیماں" تو صحیح لکھا ہے، پہلے دو الفاظ کو میرے خیال میں "پشیمانم" ہی ہونا چاہیئے یعنی
پشیمانم پشیمانم پشیماں یا رسول اللہ
وگرنہ تو مصرع بے وزن ہو جائے گا!