دل را بہ چمن بردم، از بادِ چمن افسرد
میرد بہ خیاباں ہا، ایں لالۂ صحرا مست
(اقبال)
میں اپنے دل کو چمن یعنی دنیا کی محفلوں میں لے گیا لیکن وہ بادِ چمن (محفل کی رونقوں) سے اور افسردہ ہو گیا، (اور ایسا ہی ہونا تھا کیونکہ) صحرا میں مست رہنے والا لالہ جب شہر کے چمن کی کیاریوں میں جاتا ہے تو مرجھا...