دوزخ کی زبان سے ایک لطیفہ یاد آ گیا۔
ایک بار جوش ملیح آبادی، کنور مہندر سنگھ بیدی سحر سے ملنے گئے، تو وہاں بیدی صاحب کے بہت سے ملنے والے تھے، گفتگو پنجابی میں ہو رہی تھی، جوش گھبرا گئے اور کہنے لگے، بیدی صاحب دیکھ لیجیے گا، دوزخ کی سرکاری زبان یہی آپ کی پنجابی زبان ہوگی۔ بیدی بولے، پھر تو آپ...