خوبصورت غزل ہے فاروق صاحب۔
نیزوں پہ حسین آج بھی کرتے ہیں تلاوت
اور دست ِ یزیدی میں بھی خنجر ہیں ابھی تک
گل رنگ ہوئی دار کہ یاران ِ سحر خیز
درویش سے منصور و قلندر ہیں ابھی تک
واہ واہ واہ لاجواب۔
اگر سیاہ دِلم داغِ لالہ زارِ تو اَم
وگر کشادہ جبینم گلِ بہارِ تو اَم
اقبال
اگر میں سیاہ دل والا ہوں تو تیرے لالہ زار ہی کا داغ ہوں، اور اگر میں کشادہ جبیں والا ہوں تو تیری بہار ہی کا پھول ہوں۔
واہ کیا خوبصورت غزل ہے، سبھی اشعار لاجواب ہیں
حرم ہو، مدرسہ ہو، دیر ہو، مسجد، کہ میخانہ
یہاں تو صرف جلوے کی تمنّا ہے، کہیں آجا
واہ واہ واہ۔
بہت شکریہ کاشفی صاحب شیئر کرنے کیلیے۔
ذرّہ نوازی ہے محترم آپ کی کہ آپ نے اس خاکسار کو کلماتِ تحسین سے نوازا وگرنہ من آنم کہ من دانم۔
اردو محفل پر آپ کی موجودگی ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے، امید ہے گاہے گاہے تشریف لاتے رہیں گے اور اپنی شاعری اور علم سے ہمیں بھی نوازتے رہیں گے۔
والسلام