یہ دشمنی تو اب ختم نہیں ہونے والی۔موسم اپنے وقت پر آتے جاتے رہیں گے۔ یہ الگ بات کہ محکمہ موسمیات کی کسی غلط خبر کی وجہ سے بندہ بارش ہونے سے پہلے ہی چھاتا کھول کر بیٹھ جائے۔
مگر آنکھوں دیکھے پر تو اعتبار کرنا پڑتا ہے نا۔
ہاں جی درست فرمایا۔۔۔
اسی لئے تو عنایت حسین بھٹی بھی گاتے پھرے
اکھاں لڑیاں دل تے وار ہویا سانوں اک سوہنی نال پیار ہویا.
وہ تو ساون میں دکھتا ہو گا نا۔۔۔ ہمیں تو موسمِ بہار میں دِکھ رہا ہے ۔
لوگ بدل جاتے ہیں موسم کو بدلنے میں دیر لگنی ہوتی ہے کیا؟ ادھر محکمہ موسمیات نے اعلان کیا بادل برسیں گے۔۔۔ بادل جھٹ سے سورج کے سامنے سے ہٹ جاتے ہیں۔
جی بالکل ۔پھیکی چائے کاذائقہ لگ گیا ہے۔
اس میں ایک اور بات بھی ہے نا۔۔۔ ویسے تو ہم چائے گرما گرم ہی پیتے ہیں لیکن کبھی اگر ٹھنڈی بھی ہونے لگے تو آخر کے دو گھونٹ بھی اچھے ہی لگتے ہیں۔ جبکہ چینی والی چائے کے ٹھنڈے گھونٹ پئے ہی نہیں جاتے۔
ہوتی ہوں گی چار آنکھیں مگر دیکھنا تو پھر بھی دو آنکھوں سے ہی ہے نا۔ ورنہ تو کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ والی بات ہو جائے گی۔ البتہ گردے اگر چار ہوں تو ایک کے فیل ہو جانے کی صورت میں کسی غریب مسکین کو پیسوں کا لالچ دے کر اسے گردے سے محروم نہ کیا جائے گا۔
آنکھوں کے چار ہونے کے اس کے علاوہ بھی...
ہمارے میتھی کے بیج پھوٹنے شروع ہو گئے۔ چند ایک پر سبز پتے نظر آ رہے ہیں۔ کس کس کو میتھی کا ساگ یا میتھی والی روٹی پسند ہے؟
ہمیں تو بہت پسند ہے لسی اور مکھن کے ساتھ۔
عادت ہی بنا لی ہے اس شہر کے لوگوں نے
انداز بدل لینا ، آواز بدل لینا
دنیا کی محبت میں اطوار بدل لینا
موسم جو نیا آئے رفتار بدل لینا
اغیار وہی رکھنا احباب بدل لینا
نہیں انارکلی تو بہت سمارٹ سی ہے درمیانہ قد، متناسب جسم مگر راجو کے لئے ایک اور کے چکر میں بہت خرچہ ہو جاتا۔ ورنہ راجو کی جان کے لالے پڑ جاتے، وہ بھی انارکلی کے بعد جلد ہی ہمیں داغِ مفارقت دے جاتا۔ ہم یہ صدمہ برداشت نہ کر پاتے اور دل پر لے لیتے یہ بات۔ دل پہ کوئی بات لینا تو خود کو روگ لگا لینے...
حساب کے مضمون کو بھلے چھوڑ بھی دیں مگر حساب لفظ سے رہائی کیسے ملے؟؟؟
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے
یا پھر
جوہر ہے زندگی کا فقط پیچ و تاب میں
ورنہ ہے اٹھ کے بیٹھنے والا بھی خواب میں
تو نے تو لکھ رکھا ہے سبھی کچھ کتاب میں
ہم زندگی گزار گئے کس حساب میں