ریختہ صفحہ 101
باندھے بیٹھے ہیں۔میں نے جا کر سلام علیک کی اور ایک صف میں بیٹھ گیا۔ ان دونوں صاحبوں کے بیچ میں ایک مسلمان پنجابی بزاز جس کی دکان قلعہ کے سرا پر تھی اور سب شاہزادے اور بیگمات کے یہاں وہی کپڑا دیا کرتا تھا بیٹھا ہے اور اس کے آگے نین سُکھ لٹھے کے تھان اور طاقے سیاہ بانات کے دھرے...