ریختہ صفحہ 186
بھائی مجھ میں اس قیمت کا مقدور نہیں۔ میں سستی قیمت کا جوتا چاہتا ہوں۔ میں غریب تباہی زدہ ہوں۔ پھر اس نے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو۔ میں نے کہا دلّی کے۔ وہ بولا تم لوگ بڑے نامرد ہو کہ گتم نے دلٗی تڑوا دی۔ اور اب گھر لُٹوا کر بھیک مانگتے پھرتے ہو۔ یہ بات سن کر میں تو خاموش رہا...