نتائج تلاش

  1. گُلِ یاسمیں

    حلوے کھانے کے دن آئے

    اتنے سارے حلوے۔۔۔ یہ سارے والے حلوے پوریوں کے ساتھ کھائے جا سکتے ہیں؟ پیٹھے کا حلوہ بھی مزے کا بنتا ہے۔
  2. گُلِ یاسمیں

    دودھ کی ٹکیاں

    پنیری سے کچھ اور ذہن میں آنے لگتا ہے جیسے کہ مُنجی والی پنیری یا پھر پودوں کی پنیری۔
  3. گُلِ یاسمیں

    دودھ کی ٹکیاں

    جی دودھ سے پنیر بنانے کا یہی طریقہ ہے۔ اسے رس گلے بنانے کے لئے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
  4. گُلِ یاسمیں

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    ظہیر بھی اچھا نام ہے۔
  5. گُلِ یاسمیں

    تعارف اور تعارف ہمارا ہو بھی کیا

    ہاں نا۔۔۔ موجود تھا تو سوچا فائدہ اٹھا لیا جائے
  6. گُلِ یاسمیں

    تعارف اور تعارف ہمارا ہو بھی کیا

    یہ سارے چاکلیٹس ہمارے لئے نا؟
  7. گُلِ یاسمیں

    تعارف اور تعارف ہمارا ہو بھی کیا

    بہت ساری دعائیں دیجئے گا۔۔۔ ہم بیڑا اٹھا لیتے ہیں آپ کو سکھانے کا۔ کبھی کبھی کرنی پڑ جاتی ہیں نا، دیواروں کے کانوں کی بدولت، تب تو امائیں ہیل والی جوتی نہیں پہنتی ہوں گی نا۔ کون سا مرہم پٹی کروانے جیسا سر زخمی ہوتا ہو گا۔ نہیں؟؟؟؟؟
  8. گُلِ یاسمیں

    بیت بازی سے لطف اٹھائیں (5)

    یوں ہی تو نہیں امڈی چلی آتی ہیں غزلیں پہلو میں مرے ، زمزمہ خواں ہیں تری آنکھیں شکیب جلالی
  9. گُلِ یاسمیں

    تعارف اور تعارف ہمارا ہو بھی کیا

    ہمیں نہیں معلوم تھا کہ روٹھوں کو اتنے پیار سے منایا جاتا ہے۔۔۔ ماشاء اللہ خواہ مخواہ ہی روٹھنے کو دل چاہ رہا ہے۔ دل چاہ رہا ہے کہ کسی کو جلی کٹی سُنا کر پھر خود ہی روٹھ جاؤں۔۔۔ مگر کس کو؟ یہاں تو سب ہی اتنے اچھے ہیں۔ کبھی دل چاہتا ہے کہ ایویں ہوا سے ہی لڑنے لگوں اور شور شرابا سے سارے ڈسٹرب ہوں...
  10. گُلِ یاسمیں

    بیگمات اودھ کے خطوط گفتگو دھاگہ

    کُل صفحات۔۔۔۔ : 148 تقسیم شدہ صفحات : 148 مکمل۔۔۔۔۔۔۔۔: 40 کام مکمل ہوا۔۔۔: 27،02 فیصد
  11. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب بیگمات اودھ کے خطوط

    صفحہ 36 فاطمہ بیگم کے نام رشکِ بدر، مژتری قدر، زہرہ جمال، مہرِ مثال، حور نژاد، پری نہاد، گل رو، سمن بو، انیس و ہمدم، خوبی ء مجسم، نواب فاطمہ بیگم صاحبہ۔ اسم بامسمٰی رہو۔ مکتوب محبت اسلوب غرہ ء شعبان کو منشی صفدر کی معرفت نشاط بخش غرہ ء شوال ہوا۔ دل غمزدہ دولتِ خرمی سے مالا مال ہوا۔ شوقِ وصال...
  12. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب بیگمات اودھ کے خطوط

    صفحہ 31 دل کو ہول ہے۔ دیکھئے فلک کیا رنگ دکھاتا ہے۔ گھانس منڈی میں مولویوں کا جماؤ ہے۔ سُنا ہے کہ ایک صوفی احمد اللہ شاہ آئے ہوئے ہیں۔ نواب چینا ٹین کے صاحبزادے کہلاتے ہیں۔ آگرہ سے آئے ہیں۔ یہ بھی سنا ہے کہ انکے ہزارہا مرید ہیں۔ پالکی میں نکلتے ہیں آگے ڈنکا بجتا ہوتا ہے۔ پہچھے اژدہام بڑا ہوتا...
  13. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب بیگمات اودھ کے خطوط

    ا صفحہ 26 ہے تو میرے چلنے کی کیا ضرورت ہے۔ میرے ہی مکان پر فوج مقرّر کر دو ۔ انھوں نے کہا جیسا مجھ کو حکم ملا ہے میں نے عرض کر دیا۔ بالآخر میں ساتھ چلنے پر تیار ہوا۔ میرے رفقاء بھی چلنے پر تیار ہو گئے۔ سیکرٹری نے کہا صرف آٹھ آدمی آپ کے ہمراہ چل سکتے ہیں۔ پھوپھو مجاہد الدولہ، ذہانت الدولہ سیکرٹری...
  14. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب بیگمات اودھ کے خطوط

    صفحہ 21 بے اپنے گل کے سیر گلستاں خراب ہے کیفیتیں دکھائے گی فصلِ بہار کیا برہم ہوئے ہیں گیسوئے برہم کی یاد سے اب پوچھتے ہو تم سببِ انتشار کیا گیسو کی آرزو کسی عارض کا اشتیاق دیکھیں دکھائے گردش لیل و نہار کیا ممکن نہیں جو کوچہءجاناں میں رہ سکے میرے غبار سے ہے صبا کو غبار کیا لو آؤ ایک دم میرے پہلو...
  15. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب بیگمات اودھ کے خطوط

    صفحہ 11 غیرموجود صفحہ 12 سلطان جہاں محل کا خط بنام جان عالم مجنوں کا دل ہوں محمل لیلی سے جدا ہوں تنہا پھروں ہوں دشت میں جوں نالہ جرس دوائے دردمندان الفت و اتحاد شفائے مستمدان محبت درداد کلبد گنجہ بہرود وفا خورشید مطلع صدق و صفا جانعالم ہمیشہ سر بلند رہو۔ چمن کا نام سنا تھا ولے نہ دیکھا...
  16. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب بیگمات اودھ کے خطوط

    صفحہ 5 بیگمات اودھ کے خطوط واجد علی شاہ کے زمانے میں مرزا رجب علی بیگ سرور اکبرآبادی کی طرز تحریر بالخصوص فسانہ عجائب کی عبارت کے انداز کا چلن عام تھا۔ علی العموم شاہی خاندان کے مراسلات میں عام طور پر تقلید کی جاتی۔ بادشاہ کو خود قافیہ سنجی کا بے حد شوق تھا۔ اس قسم کی عبارت میں اگرچہ مطالب کے...
  17. گُلِ یاسمیں

    مزاحیہ سوال جواب

    چُنا مُنا دو چوزے تھے اِک دن دونوں گھر سے نکلے کوئی بتائے گا کہ گھر سے نکل کر وہ کہاں گئے؟
  18. گُلِ یاسمیں

    سادہ سا سوال ہے !

    بالکل غلط۔۔۔ ہم نے آج تک ہینڈ فری استعمال ہی نہیں کیا۔ حتٰی کہ کھانا بناتے ہوئے بھی۔ اور جب گارڈن میں کام کر رہے ہوں تو بس سوچتے ہیں، بلکہ آج کل تو کچھ زیادہ ہی سوچ رہے ہیں۔
Top