تیری قربت کے لمحے پھول جیسے
مگر پھولوں کی عمریں مختصر ہیں
آج اس شعر نے ایک نئے معنی کا دروازہ کھولا ہے، پہلے مجھے لگتا تھا کہ اس شعر میں مخاطب بس ایک ہی ہے، اور آج لگا کہ نہیں آج گل کے روبرو کوئی اور گل ہے۔
ایہہ تن من میرا جے کنگھی
تے میں زلف محبوب دی واواں
پوش میری دی بن جائے جُتی
تے میں سوہنڑے دے پیری پانواں
جے سوہنڑا میرے دُکھ وچ راضی
تے میں سُکھ نوں چُلھے ڈانوان
یار فریدا جے مل پوے سوہنڑا
تے میں رو رو حال سناواں
حضرت خواجہ غلام فرید
ٹوٹتا ہی رہتا ہے۔۔۔ آج گلابوں کی گوڈی کرنے کی باری تھی،،، ایک کلی ٹوٹ گئی۔کلی کیا ٹوٹی ،ہمارا دل ہی ٹوٹ گیا۔
بھائی کو بتایا کہ گھاس اکٹھی کرتے ایک انڈا ملا تھا جسے لا کر ہم نے بکس میں کپڑے میں لپیٹ کر رکھ دیا ہے۔انھوں نے فرمایا کہ ابھی اسے توڑ کر باہر کچرے میں ڈال کے آؤ۔کیونکہ سانپ کا بھی تو ہو...