نتائج تلاش

  1. گُلِ یاسمیں

    تھوڑا سا مگر قرضِ خطا ہے میرے سر پہ

    ہم بھی نا۔۔۔۔ گھائل پڑے ہیں اور آپ نے عیاد ت بھی نہیں کی ہماری تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں
  2. گُلِ یاسمیں

    تھوڑا سا مگر قرضِ خطا ہے میرے سر پہ

    ہوا کچھ نہیں۔ بس ایکٹنگ کا شوق چُرایا تھا۔
  3. گُلِ یاسمیں

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    سر کی چوٹ سے ایسا ہی لگتا ہے۔۔۔ کبھی بازو ٹوٹا محسوس ہوتا ہے اور کبھی پیر۔ وہ تو اللہ کا شکر کہ آہستہ آہستہ ٹائپ تو کر رہے ہیں۔ورنہ بور ہی ہو جاتے۔ جی جی ایسے والے تو نظر آ جائیں گے لیکن ایسے ویسے نہیں آم تو بس چار ہی بچے ہیں اب الٹا چکر۔۔۔ جس کی عیادت کی جائے اس کے لئے جلیبیاں لے کر جاتے...
  4. گُلِ یاسمیں

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    اللہ نہ کرے۔ ہم نے ایک آدھ دن میں ٹھیک ہو جانا ہے۔ اے خان نے تو ابھی دوسری سینچری بھی بنانی ہے
  5. گُلِ یاسمیں

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    نہیں آم کھودے تو نہیں جاتے پیڑوں پہ لگتے ہیں۔ کھود کے نکالے ہوتے تو ایسے تازہ تھوڑی ہونے تھے
  6. گُلِ یاسمیں

    عشق کی گلی

    کل شروع کرتے ہیں ان شاءاللہ۔
  7. گُلِ یاسمیں

    تھوڑا سا مگر قرضِ خطا ہے میرے سر پہ

    السلام علیکم خطا تو خطا ہوتی ہے اب چاہے بڑی ہو یا چھوٹی۔ چھوٹی خطا بھی ہو اور اس کی بروقت اصلاح نہ کی جائے تو وہی بڑی خطا بھی بن جاتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے زمین میں تو ایک بیج ہی لگایا جاتا ہے، پھر وہ پھوٹ کر پودا بنتا ہے، پودا بڑا ہو کر درخت بنتا ہے ، پھر اس پر آم لگتے ہیں۔یہاں ایک خطا ہم سے ہو...
  8. گُلِ یاسمیں

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    آپ کو بھی سر پہ ہی لگی ہے چوٹ؟ آپ ہی کو انیسواں مہمان بولا تھا۔ لیکن آپ تو بارھواں کھلاڑی بننے پہ تُل گئے۔ ہمیں کرکٹ سے ذرہ برابر دلچسپی نہیں ہے۔ ہمارے دادا جان کے بھی بند تھے بڑھاپے میں، پھر ڈاکٹر نے انھیں کان کے لئے آلہ دیا۔ سب ٹھیک ہو گیا۔ وہ خود تو نہیں رہے لیکن ان کی نشانی کے طور پہ سنبھال...
  9. گُلِ یاسمیں

    عشق کی گلی

    آپ تیار ہیں؟
  10. گُلِ یاسمیں

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    چوٹ کا اثر لگتا ہے۔ لگی بھی تو نشانے پہ ہیں نا۔ اب تو یقین ہو چلا ہے کہ ایک آدھ چھید ضرور ہو گیا ہے دماغ میں۔ بھولی بسری یادیں ایسے ٹپک رہی ہیں جیسے بارش میں کسی چھت سے پانی ٹپکے۔
  11. گُلِ یاسمیں

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    ہاں جی انیسواں مہمان "دار فانی" سے بلائیں گے نا۔ :D صرف ہمدردیاں؟ مطلب کہ آپ سے جلیبیوں کا کہا جائے تو ابھی سے مایوس ہو جائیں۔ ہماری کب ہوئی آموں سے بات چیت؟ ہم نے تو الشفا محترم کو بتایا تھا کہ جرمنی سے ہیں آم۔ حیران تو ہم بھی ہوئے تھے لیکن ہمیں آم کھانے سے مطلب، نہ کہ پیڑ گننے سے اور نہ...
  12. گُلِ یاسمیں

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    ہم نے کب بولا جرمن آم۔۔ جرمنی سے آئے۔ اور تھے بھی اپاہج والے
  13. گُلِ یاسمیں

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    ہم تو مریض ہیں نا۔۔۔ اور مریض کا خیال رکھا جاتا ہے۔ ویسے بھی ہم نے حکم تھوڑی دیا تھا۔۔۔ درخواست کی تھی۔ آپ نے کون سا لا دیں۔ ہم نے تو کھجوریں اور نوڈلز کھا کر وقت گزارا۔ جلیبیوں کی خواہش نے ابھی بھی دم نہیں توڑا۔
  14. گُلِ یاسمیں

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    شکر ہے کہ معلوم پڑ گیا۔ورنہ نجانے ہم لوگوں کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے۔ بیلنے سے یاد آیا کہ ابھی تو ہم روٹی بیلنے کی پوزیشن میں بھی نہیں پاپڑ کیسے بیلیں گے۔ آپ نے چار لفظوں میں "کیسی ہے طبیعت اب" پوچھا ہے اور ہم حلق تک بھرے بیٹھے ہیں کہ کوئی پوچھے اور ہم داستانِ درد سنائیں، دل کے داغ دکھلائیں۔...
  15. گُلِ یاسمیں

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    خیریت تو ابھی تک ویسی ٹوٹی پھوٹی ہے۔ آم ۔۔۔ جرمنی سے آئے اور مزے لے لے کر کھائے۔ یہ سوال اس دن 18 بار ہوا ہم سے۔۔ پھر ہمیں مجبوراً ایک ایک آم بطور سوغات سب کو دینا پڑا۔ آپ کو کیسے پہنچائیں؟؟؟
  16. گُلِ یاسمیں

    عشق کی گلی

    غصہ تو نہیں کریں گے نا؟ یا زخم تازہ نہ ہو جائیں کہیں؟
  17. گُلِ یاسمیں

    عشق کی گلی

    بس ایک بار اے خان پہلے کنفرم کر لیں تعداد۔ اور باقی تفصیلات۔ بلکہ ہم ایسا کرتے ہیں کہ ان کے لئے ایک سوالنامہ تیار کر لیتے ہیں۔ انھیں بھی سہولت اور ہمیں بھی بار بار نہ پوچھنا پڑے گا۔
  18. گُلِ یاسمیں

    بیگمات اودھ کے خطوط گفتگو دھاگہ

    کُل صفحات۔۔۔۔ : 148 تقسیم شدہ صفحات : 148 مکمل۔۔۔۔۔۔۔۔: 130 کام مکمل ہوا۔۔۔۔۔87،83 فیصد
  19. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب بیگمات اودھ کے خطوط

    صفحہ 126 آلام سودا اٹھتا ہے گلا گھٹتا ہے کیا کہیں جو ہمارا رنگ ڈھنگ ہے نہ کوئی ہمدرد پاس ہے نہ کوئی رفیق سنگ ہے تقدیر سے جنگ ہپے۔ شکل امید تو کب ہم کو نظر آتی ہے صورتِ یاس بھی بن بن کے بگڑ جاتی ہے گوہر طرح عاقل و فرزانہ ہوں ،جب دل بس میں نہیں آپ ہی دیوانہ ہوں فریبِ عشق ثابت ہے مجھے بھی مگر دل پر...
Top