نتائج تلاش

  1. قیصرانی

    عمران سیریز نمبر 4

    "نہیں اب میں اتنا گدھا بھی نہیں ہوں! میں نے اپنا صحیح نام اور پتہ نہیں لکھوایا۔" "اس خیال میں نہ رہنا۔" روشی نے تلخ لہجے میں کہا۔ "پولیس شکاری کتوں کی طرح پیچھا کرتی ہے۔" "فکر نہ کرو! ایک ہفتے تک تو وہ گیراج کھلنا نہیں! کیوں کہ میں نے ایک ہفتے کا پیشگی کرایہ ادا کیا ہے اور پھر ایک ہفتے...
  2. قیصرانی

    عمران سیریز نمبر 4

    O تھوڑی دیر بعد کار شہر کی طرف واپس جا رہی تھی! روشی اور عمران اگلی سیٹ پر تھے! عمران کار ڈرائیو کر رہا تھا! پچھلی سیٹ پر ڈرائیور بےبس پڑا ہوا تھا۔۔۔ اس کے دونوں ہاتھ پشت پر اسی کی ٹائی سے باندھ دیئے گئے تھے اور پیروں کو جکڑنے کے لئے عمران نے اپنی پیٹی استعمال کی تھی اور اس کے منہ میں دو عدد...
  3. قیصرانی

    عمران سیریز نمبر 4

    عمران نے جنبش تک نہ کی۔ وہ کسی پتھر کے بت کی طرح بے حس و حرکت نظر آرہا تھا! حتٰی کہ اس کی پلکیں تک نہیں جھپک رہی تھیں۔ کار بدستور فراٹے بھرتی رہی۔ روشی پر غشی سی طاری ہو رہی تھی۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا! جیسے کار کا رخ تحت الثرٰی کی طرف ہو۔۔۔ اس کی آنکھیں بند ہوتی جا رہی تھیں۔ اچانک اس...
  4. قیصرانی

    عمران سیریز نمبر 4

    "تم کیا جانو کہ اس نے کیا کہا تھا۔" "تمہارے جوابات سے میں نے سوالوں کی نوعیت معلوم کر لی تھی۔" "تم صرف عورتوں کے معاملے میں بیوقوف معلوم ہوتے ہیں۔" "تم خود بیوقوف!" عمران بگڑ کر بولا۔ "چلو۔۔۔ چلو!" وہ اسے ٹیکسی کی طرف دھکیلتی ہوئی بولی۔ "نہیں تم بار بار مجھے بیوقوف کہہ کر چڑا رہی...
  5. قیصرانی

    عمران سیریز نمبر 4

    "گاڑی روک دو۔" ٹیکسی رک گئی۔ روشی اور عمران اتر گئے۔ بوتھ خالی تھا! روشی نے ایک بار پھر عمران سے پوچھا کہ اسے کیا کہنا ہے عمران نے اس سلسلے میں کچھ دیر قبل کہے ہوئے جملے دہرائے۔ روشی فون میں سکہ ڈال کر نمبر ڈائیل کرنے لگی اور پھر عمران نے اس کے چہرے پر حیرت کے آثار دیکھے۔ وہ ایک ہی سانس...
  6. قیصرانی

    عمران سیریز نمبر 4

    "ان کے بارے میں بھی میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ جعلی ہوں۔۔۔ یا ان میں بھی ایک آدھ پیکٹ اصلی نوٹوں کا چلا گیا ہو! اب تو اصلی اور نقلی مل جل کر رہ گئے ہیں۔ میری ہمت نہیں پڑتی کہ ان میں سے کسی نوٹ کو ہاتھ لگاؤں۔" "مگر اس لڑکی نے تمہارے نوٹ کس طرح اڑائے ہوں گے!" "اوہ۔۔۔!" عمران کی...
  7. قیصرانی

    عمران سیریز نمبر 4

    "افسوس کہ تمہیں اردو نہیں آتی ورنہ میں کہتا ان کو آتا ہے پیار پر غصہ ہم ہی کر بیٹھے تھے غالب پیشدستی ایک دن!" "چلو بکواس مت کرو!" وہ عمران کو دروازے کی طرف دھکیلتی ہوئی بولی۔ روشی اس وقت سچ مچ بہت حسین نظر آرہی تھی! عمران نے نیچے اتر کر ایک ٹیکسی کی اور وہ دونوں "وہائٹ ماربل" کے لئے...
  8. قیصرانی

    عمران سیریز نمبر 4

    "نہیں پڑوس میں ہے اور فون بھی ہے!" "ذرا لاؤ تو ڈائریکٹری٬" عمران نے کہا۔ "تم بھی ساتھ چلو!" "اوہ۔۔۔ چلو!" وہ دونوں دروازہ کھول کر باہر نکلے۔ روشی برابر والے فلیٹ میں چلی گئی اور عمران باہر اس کا انتظار کرتا رہا۔ شاید پانچ منٹ بعد روشی واپس آگئی! واپسی پر پھر روشی نے بہت احتیاط...
  9. قیصرانی

    عمران سیریز نمبر 4

    O سات بجے عمران روشی کے فلیٹ میں پہنچا! وہ شاید اسی کا انتظار کر رہی تھی! عمران کو دیکھ کر اس نے برا سا منہ بنایا اور جھلائے ہوئے لہجے میں بولی۔ "اب آئے ہیں، صبح کے گئے ہوئے! میں نے لنچ پر آپ کا انتظار کیا! شام کو کافی دیر تک چائے کے لئے بیٹھی رہی!" "میں دوسری روڈ کی ایک بلڈنگ پر تمہارا...
  10. قیصرانی

    عمران سیریز نمبر 4

    عمران کچھ نہ بولا! اس نے جیب سے چیونگم کا پیکٹ نکالا اور اس کا کاغذ پھاڑ کر ایک سپرنٹنڈنٹ کو پیش کیا جو بوکھلاہٹ میں شکریئے کے ساتھ قبول کر لیا گیا۔ لیکن سپرنٹنڈنٹ کے چہرے پر ندامت کی ہلکی سی سرخی دوڑ گئی اور وہ چھینپ کر دوسری طرف دیکھنے لگا۔ اس کے برخلاف عمران بڑے اطمینان سے اسے اپنے دانتوں...
  11. قیصرانی

    عمران سیریز نمبر 4

    O عمران ٹھیک ایک بجکر ڈیڑھ منٹ پر سپرنٹنڈنٹ کے آفس میں داخل ہوا اور سپرنٹنڈنٹ اپنے سامنے ایک نوعمر آدمی کو کھڑا دیکھ کر پلکیں جھپکانے لگا۔ "تشریف رکھیئے۔ تشریف رکھیئے!" اس نے تھوڑی دیر بعد کہا۔ "شکریہ!" عمران بیٹھتا ہوا بولا۔ اس وقت اس کے چہرے پر حماقتیں نہیں برس رہی تھی وہ ایکا چھی اور...
  12. قیصرانی

    عمران سیریز نمبر 4

    O عمران ریلوے اسٹیشن پر ٹہل رہا تھا! اسے اپنے ماتحت ہدہد کی آمد کا انتظار تھا! ہدہد جو ہکلا کر بولتا تھا اور دوران گفتگو بڑے بڑے الفاظ ادا کرنے کا شائق تھا۔ ٹرین آئی۔۔۔ اور نکل بھی گئی۔۔۔ لیکن ہد ہد کا کہیں پتہ نہ تھا۔ عمران گیٹ کے پاس آکر کھڑا ہو گیا۔ بھیڑ زیادہ تھی۔ اس لئے ہدہد کافی دیر...
  13. قیصرانی

    عمران سیریز نمبر 4

    O شاداب نگر کے محکمہ سراغ رسانی کے دفتر میں سب انسپکٹر جاوید کی خاصی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ ایک ذہین اور نوجوان آفیسر تھا! تعلق تو اس کا محکمہ سراغ رسانی سے تھا لیکن اس کے لئے بے تکلف دوست عموما اسے تھانیدار کہا کرتے تھے! وجہ یہ تھی کہ ذہن کے ساتھ ہی ساتھ ڈنڈے کے استعمال کو بڑی اہمیت دیتا...
  14. قیصرانی

    عمران سیریز نمبر 4

    روشی بیٹھی ہانپتی رہی! پھر اس نے ایک کریہہ سی آواز سنی اور ساتھ ہی ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی بہت وزنی چیز زمین پر گری ہو۔ پھر بھاگتے ہوئے قدموں کی آوازیں۔ اور اب بالکل سناٹا تھا! قریب یا دور کہیں سے کسی قسم کی آواز نہیں آرہی تھی البتہ خود روشی کے ذہن میں ایک نہ مٹنے والی "جھائیں جھائیں"...
  15. قیصرانی

    عمران سیریز نمبر 4

    "بکواس مت کرو!" روشی جھنجھلا گئی۔ پھر اس نے کہا۔ "جاؤ اس کمرے میں سو جاؤ۔ بستر صرف ایک ہے۔ میں یہاں صوفے پر سو جاؤں گی۔" "نہیں۔۔۔ تم اپنے بستر پر جاؤ۔۔۔ میں یہاں صوفے پر سو جاؤں گا۔" عمران نے کہا۔ اس پر دونوں میں بحث ہونے لگی۔ آخر کچھ دیر بعد عمران ہی کو خواب گاہ میں جانا پڑا اور روشی...
  16. قیصرانی

    عمران سیریز نمبر 4

    گے بڑی مشکل ہے! ابھی وہ لفظ ذہن میں تھا۔۔ غائب ہو گیا۔۔۔!" عمران بے بسی سے اپنی پیشانی رگڑنے لگا۔ روشی اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اسے کیا سمجھے! نیم دیوانہ یا کوئی بہت بڑا مکار۔۔۔ مگر مکار سمجھنے کے لئے کوئی معقول دلیل اس کے ذہن میں نہیں تھی۔ اگر وہ...
  17. قیصرانی

    عمران سیریز نمبر 4

    O "دیکھو یہ رہا میرا چھوٹا سا فلیٹ!" روشی نے کہا۔ وہ دونوں فلیٹ میں داخل ہو چکے تھے اور احمق اتنے اطمینان سے ایک ایک صوفے میں گر گیا تھا جیسے وہ ہمیشہ سے یہیں رہتا آیا ہو! "یہ مجھے اس صورت میں اور زیادہ اچھا معلوم ہوگا اگر کھانے کو کچھ مل جائے!" احمق نے سنجیدگی سے کہا۔ "اس کے لئے...
  18. قیصرانی

    عمران سیریز نمبر 4

    دوسری کار فراٹے بھرتی ہوئی اندھیرے میں گم ہوگئی۔ اس کی عقبی سرخ روشنی بھی غائب تھی! احمق روشی پر جھکا ہوا تھا۔ "عورت۔۔۔ اے عورت۔۔۔ ار۔۔۔ لل۔۔۔ لڑکی!" وہ اسے جھنجھوڑ رہا تھا۔ روشی کی آنکھیں کھلی تھیں اور وہ اس طرح ہانپ رہی تھی۔ جیسے گھونسلے سے گرا ہوا چڑیا کا بچہ ہانپتا ہے! عمران کے...
  19. قیصرانی

    عمران سیریز نمبر 4

    O روشی خاموش ہو گئی۔ بندرگاہ کے قریب پہنچ کر اس نے ایک ٹیکسی رکوائی۔ "چلو بیٹھو!" "مجھے بھوک لگ رہی ہے!" "تو اب تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں کھانا بھی کھلاؤں۔" روشی اسے ٹیکسی میں دھکیلتے ہوئے بولی۔ وہ دونوں ٹیکسی میں بیٹھ گئے اور ٹیکسی چل پڑی۔ "تم یہ نہ سمجھو کہ میں مفلس ہوں۔...
  20. قیصرانی

    عمران سیریز نمبر 4

    "مجھے پچاس بھینیسں خریدنی تھیں!" "بھینسیں!" "ہاں بھینسیں۔۔۔ اور میں ان بھینسوں کے بغیر واپس نہیں جاسکتا کیونکہ میرے ڈیڈی ذرا غصہ ور قسم کے آدمی ہیں!" "کیا وہ بھینسوں کی تجارت کرتے ہیں!" "نہیں۔ انہیں بھینسوں سے عشق ہے!" احمق نے سنجیدگی سے کہا اور روشی بے ساختہ ہنس پڑی۔ "ہائیں...
Top