اوٹ میں شانتی
جمال کے جانے کے بعدایلی بالکل ہی تنہارہ گیا۔دوپہرتک وہ کالج میں وقت کاٹتا۔اگرچہ وہ جماعت میں چلاجاتاتھالیکن ابھی تک اس نے ہم جماعتوں سے کوئی رسم وراہ پیدانہ کی تھی۔اکیلاہی برآمدوں میں گھومتارہتاخالی پیریڈمیںیاتوباہر لان میں ٹہلتااوریابازارکی طر ف نکل جاتااوران مقامات پرجانے سے...
ہے‘کہہ کرشانے ہلاتاتھاتوایلی کومحسوس ہوتاتھاجیسے وہ دھکادے کربرآمدے کے ستون کوگراسکتاہے اورجب جمال نے اس لڑکی کے متعلق باتیں کرتے ہوئے کہاتھا:
’’اورپھرجب اپنابس چلتاہے توگن گن کربدلے لیتاہوں۔‘‘
اس وقت اس کے چہرے پرعجیب وحشت ابھرآئی تھی جیسے واقعی گن گن کربدلہ لے رہاہو۔اس وقت ایلی کودکھ محسوس...
اکتاہٹ
بورڈنگ کی سڑک پرنہرکے قریب اسے مہراورنورملے وہ دونوں بورڈنگ سے واپس آرہے تھے۔
وہ دونوں ایلی کے قریب سے گزرگئے۔چارایک قدم چلنے کے بعدوہ رک گئے مہرکھڑاہوگیااورنورایلی کی طرف بڑھا۔اس کے ہونٹوںپروہی خم تھا۔آنکھوں میں وہی نگاہ تھی۔جسے دیکھ کرایلی ندامت سے زمین میں گڑگیامہرکیاکہے گا۔وہ ایلی...
رچانے کے خیال ہی سے گویااس کی جان نکلتی تھی۔
اگر اس مٹیالی چاندنی میں وہ تنہائی میں اس کے قریب نہ بیٹھتی یااس کے ہاتھوں پرحنائی رنگ نہ ہوتایاحنامیں وہ بونہ ہوتی جوایلی کومشتعل کردیاکرتی تھی یاوہ ہاتھ ازراہ اتفاق ناگ کی طرح پھن نہ اٹھاتااورایلی کویہ محسوس نہ ہوتاکہ اسے اپنی حفاظت کرنی ہے تووہ...
شہزاد
سانپ اورسپیرا
رات کوشہزادکی طرف دیکھے بغیرایلی اپنی چارپائی پرچپ چاپ لیٹ گیااورسوچ میں غرق ہوگیا۔صحن میں چاندی۔چنکی ہوئی تھی روپہلی چاندنی میں شہزادکے دوبلوریں پاؤں کہیں رکھے ہوئے تھے اورسیاہ جالی داردوپٹے میں اس کی دودھیاپیشانی پرایک سیاہ بیربہونی چمٹی ہوئی تھی۔دونوکیلی آنکھیں ڈول رہی...
رینگتی دیواریں
اگلے روزایلی گاڑی میں علی پورجارہاتھا۔
بخارکی وجہ سے اس کی کنپٹیاں تھرک رہی تھیں۔دل میں دھنکی بج رہی تھی۔گاڑی ہرے بھرے کھیتوں میں جارہی تھی۔یہاں وہاں سبزگٹھڑیاں پڑی تھیں۔
ایک گٹھڑی قریب آتی۔دفعتاً اس میں سے دوحنامالیدہ ہاتھ ایلی کی طرف لپکتے اورپھرشمیم کی ہنسی کی آوازسنائی...
اجراہوگیا۔اورچندہی دنوں میں کالج میں شکنتلاکے کھیل کی ریہرسل شروع ہوگئی۔
شبھ لگن
ایلی کوموسیقی سے بے دلچسپی تھی۔گانے کی آوازسن کراس کے دل میں چوہے سے دوڑے لگتے۔دل بیٹھ جاتاایک رنگین اداسی اسے چاروں طرف سے گھیرلیتی۔جب سے جب سے شکنتلاکی ریہرسل شروع ہوئی تھی،اس کے لئے بورڈنگ میں جانامشکل...
جادو کا چراغ نہیں ماوراء دراصل جاوید اقبال بھائی نے یہ سب کچھ لکھا تھا۔ انہی دنوں میں وکی پر مصروف تھا، دوسرا جی میل میںپوسٹ کنورسیشن کی شکل میں آتی ہے، تو کئی حصے کنورٹ ہو کر پوسٹ ہونے سے رہ گئے تھے (جاوید بھائی ان پیج فائلز بھیجا کرتے تھے)
جاوید بھائی بہت معذرت کہ آپ کا کام اتنے دن رکا...
اتنی ساری
اس روزجب ایلی بورڈنگ میں پہنچاتووہ بے حد تھکاہواتھا۔کئی دنوں سے ایک بے نام سادرداس کے بندبندمیںچیونٹیوں کی طرح رینگ رہاتھا۔وہ محسوس کرنے لگاتھاجیسے اس کاوجودایک تکلیف دہ چیزہو۔اسکے گردنیلاآسمان روزبروزپھیکاپڑتاجاتاتھااوردنیایوں دکھائی دینے لگی تھی جیسے ایک ویرانہ ہو۔طویل وعریض ویرانہ...
آصف
آصف ایک خاموش اورشرمیلانوجوان تھا۔نہ جانے اس کی بے پناہ جاذبیت کاکیارازتھا۔شایداس کی وجہ اسکی خاموشی اورشرمیلاپن ہویاشایداس کاسفیدرنگ جھکی جھکی آنکھیں اوررخساروں پرجھلکتی ہوئی سرخی کواس سے کوئی تعلق ہوبہرصورت یہ امرمسلمہ ہے کہ محلے کی لڑکیاں اس کے لئے بے قراررہتی تھیں۔قرب وجوارمیں رہنے...
پٹھو
جونہی وہ بورڈنگ میں پہنچا۔اللہ دادنے لپک کراسے پکڑلیااوراسے شانوں پراٹھاکرناچنے لگا۔ایلی نے شورمچایا۔ٹانگیں چلائیں۔لیکن بے کار۔اللہ دادنے اسے اٹھائے رکھا۔’’شفیع اوشفیع اب بن گئی بات۔اب تووہ باؤنڈری لگائیں گے کہ یہ مہاشے یادکریں گے۔‘‘شفیع کوتلاش کرنے کے بعدوہ دونوں ویسے ہی ایلی کواٹھائے...
رفیق اورسکینہ
محلہ والیاں خاموش رہتی تھیں۔پھربھی دبی دبی رہنے کے باوجودبات نہ دبی اورمحلہ والیوں کی شرگوشیاں جاری رہیں۔’’ہرنی ہے ہرنی۔‘‘وہ اسے دیکھ کرکہتیں ۔’’کلیلس بھرتی ہے۔‘‘شایدسرگوشیوں میں لذت پیدانہیں ہوتی۔
اس لئے آہستہ آہستہ ان سرگوشیوں میں شہزادکے ساتھ رفیق کانام شامل کرلیاگیااورمحلے...