اس کی طرف کسی نے دھیان ہی نہ دیا کیونکہ وہ ایک اوباش آدمی تھا، ویسے بھی مہینوں گھر میں اس کی شکل دکھائی نہیں دیتی تھی۔"
"لیکن۔۔۔!" راضیہ نے تھوک نگل کر کہا۔ "لاش یونہی کیوں پڑی رہ گئی۔۔۔!"
"اوہ۔۔۔ پھر کسی کی ہمت ہی نہیں پڑی کہ وہ اس تہ خانے میں اترتا!۔۔۔ والد صاحب نے مجھے اس کے متعلق اس...
"آؤ۔۔۔ ڈرو نہیں۔۔۔!"
راضیہ لڑکھڑاتے قدموں سے آگے بڑھی۔ بوڑھے ارشاد کے رویئے نے اسے سچ مچ خوفزدہ کر دیا تھا!
"آؤ۔۔۔ دیکھو! یہ ایک تہہ خانہ ہے۔۔۔"
راضیہ دو زانو بیٹھ کر خلا میں جھانکنے لگی!۔۔۔ وہ چند لمحوں تک آنکھیں پھاڑتی رہی لیکن اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا۔۔۔ ٹارچ کی روشنی کافی...
نہیں آیا۔۔۔۔ البتہ سامنے ہی دیوار پر ایک بڑا سا فریم آویزاں تھا اور اس کے شیشے پر اتنی گرد جمی ہوئی تھی کہ وہ بالکل تاریک ہو کر رہ گیا تھا۔۔۔!
پھر اس نے ارشاد کو شیشے کی گرد صاف کرتے دیکھا!۔۔۔ اس فریم میں ایک تصویر تھی!۔۔۔ لیکن اس کمرے میں اسے اپنے باپ نوشاد کی تصویر دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی...
"دادا جان آپ یقین کیجئے۔۔۔!"
"میں یہ نہیں کہتا کہ حرکت تمہاری ہے۔۔۔!" بوڑھے نے آہستہ سے کہا!۔۔۔
"آپ نے یہ کیوں پوچھا کہ وینٹی بیگ کے متعلق کون کون جانتا ہے۔۔۔!"
"میں پھر یہی کہتا ہوں کہ یہ حرکت تمہاری نہیں ہوسکتی۔۔۔"
"تو اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ خاندان کے کسی دوسرے فرد پر شبہ کر رہے...
"میں تو ایسا نہیں سمجھتی! آخر آج آپ یہ جھگڑا کیوں لے بیٹھے ہیں!"
"ضرورتاً۔۔۔! آج میری ذرا سی غفلت مجھے موت کے گھاٹ اتار دیتی۔۔۔۔ یہ سانپ تمہارے وینٹی بیگ میں تھا۔۔۔!"
"نہیں!" راضیہ بوکھلا کر کھڑی ہوگئی!
"بیٹھ جاؤ۔۔۔ یہ حقیقت ہے!۔۔۔ یہ واقعی ایک نازیبا بات ہے کہ میں تمہارے وینٹی بیگ میں...
لوگ اسے جھکی سمجھتے تھے!۔۔۔ ارشاد منزل میں وہ تنہا رہتا تھا!۔۔۔ کنبے کے دوسرے افراد شہر کے مختلف حصوں میں مقیم تھی۔۔۔ ان کا کفیل ارشاد ہی تھا! لیکن انہیں ارشاد منزل میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں تھی!۔۔۔ اس کی وجہ خود ان لوگوں کو بھی معلوم نہیں تھی۔
ارشاد منزل ایک بہت بڑی عمارت تھی اور شائد شہر...
(۱)
نیمور اینڈ بارٹلے کا آفس پوری عمارت میں پھیلا ہوا تھا۔۔۔! اس فرم کے علاوہ اس عمارت میں اور کسی کا کاروبار نہیں تھا!۔۔۔ اسی بنا پر یہ عمارت کوبرا مینشن کے نام سے مشہور ہو گئی تھی! ویسے اس کا نام کچھ اور تھا!
نیمور اینڈ بارٹلے ی فرم سانپ کی کھالوں کی تجارت کرتی تھی!۔۔۔ کاروبار بہت بڑا...
وہ امان" پھر وہ منصر کی طرف دیکھنے لگا۔ منصر اپنے کام میں مصروف تھا۔ وہی حسین اور پر ذہانت چہرا۔ وہی شان استغنٰے وہی وقار۔ لیکن ان سب پر پژمردگی کا پردہ پڑا ہوا تھا۔ اس کی مسکراہٹ میں جاذبیت کے باوجود شکستگی کی جھلک تھی جیسے پیمانے میں بال آگیا ہو۔
ایلی نے شدت سے محسوس کیا کہ منصر دکھی ہے۔...
"ایسی دھمکی ہے تو نہیں کھولتے ہم۔ توڑ دو دروازے کو" ماں بولی۔
"اچھا" اس نے دانت پیسے "کہاں ہے میری بندوق۔" وہ دیوانہ وار سیڑھیاں چڑھنے لگا۔
"یا اللہ یا اللہ۔۔۔" اماں گھبرا کر دعائیں مانگنے لگی۔
"میں جانتا ہوں" ایلی نے کہا۔
"وہ گولی چلا دے گا چلا دے گا" اماں نے کہا۔
"دیکھوں گی میں کیسے...
ایک گھنٹہ برباد کر دیا۔ کیوں جی۔ ہم سے بات بھی نہ کی۔"
"تم سے باتیں کرنے کا مزا تو چکھ لیا۔"
"ابھی سے گھبرا گئے۔ اور ہم تو حضور سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں وہ کیا ہوں گی۔" سادی چمک کر بولی۔
"ایک کال کلوٹے سے۔۔۔" ایلی رک گیا۔
"خاموش۔۔۔" سادی نے ایلی کو ڈانٹا۔ "ہائے باجی یہ تو ساری عمر معاف نہ...
صاحب آپ کا ہمارے گھر جانا یا کسی قسم کا کوئی رابطہ پیدا کرنا ہمارے لیے تکلیف کا باعث ہوگا اور اب جب کہ ہمارے دوستانہ مراسم ہو چکے ہیں اگر آپ نے چوری چھپے کوئی بات کی یا کوئی بات مجھ سے چھپائی تو مجھے دکھ ہوگا"۔
"آپ شاید یہ سوچ رہے ہیں کہ یہاں آپ کو کیوں لایا گیا ہے۔ مجھے دفعتاً خیال آیا کہ اس...
واقعی مکی نے بہت کم وقت میں بہت سارا کام کر دیا ہے اور بہت اچھے اچھے سافٹ وئیرز ہمیں ملے ہیں جو کہ نہ صرف اردو میں بلکہ کاپی رائٹ فری بھی ہیں۔ شکریہ مکی
اپ لوڈنگ کے لئے نبیل بھائی کا شکریہ