چلو اسی سے کہیں دل کا حال جو بھی ہو
وہ چارہ گر تو ہے اس کو خیال جو بھی ہو
اسی کے درد سے ملتے ہیں سلسلے جاں کے
اسی کے نام لگا دو ملال جو بھی ہو
احمد فراز
تمنائیں ہزاروں ہوتی ہیں انسان کی۔۔۔ سب اپنے مقررہ وقت پر پوری ہوتی ہیں۔
آج ہمیں پیاز بونے کی تمنا ہے تا کہ ان کے ہرے ڈنٹھل گرمیوں میں کھانے میں استعمال کر اسکیں۔ دیکھئیے پوری ہوتی ہے یا نہیں۔
رنگ رنگ کے پھول تو کھلے ہیں اور سر سبز گھاس بھی ہے۔ کاٹنے کے باوجود کیاریوں کے ساتھ ابھی صفائی کرنی باقی ہے۔
راجو اور انار کلی پرندوں کو کچھ نہیں کہتے اور نہ پرندے ان سے ڈرتے پھرتے ہیں۔