ریختہ صفحہ 111
باہر سدھارا۔ تقدیر میں تو یونہی لکھا تھا۔ وہی آٹھ سات روز ڈیوڑھی پر بھی سناٹا رہا۔پلیٹیں لکھ لکھ کر باہر بھیجیں اور وہ دو دو تین تین روز پی پی کر جی اٹھے۔ اتنے دن نہ حکمِ حیدر کی رات کو آواز آئی نہ دن کو جائزے کی ہانک پکار سنی۔ پندرہ روز بعد اباجان گاؤں پر سے آئے ۔ آٹھ دن کے لئے...