روؤف بھائی نے پوچھا تھا لیکن آپ سے کل کے بارے بات ہو گئی تو اس لئے ان سے منگل کا بول دیا۔
اگر روؤف بھائی چاہیں تو ٹھیک ہے ایسا ، لیکن شدید اصرار کیوں؟ صرف اصرار سے بھی کام ہو جاتا۔
ہم پھر بھی آس لئے بیٹھے رہے کیونکہ سب کہتے ہیں امید پہ دنیا قائم ہے۔ یاد ہی نہ رہا امید اور کسوٹی میں فرق ہے۔ کسوٹی سوالوں کے جواب کے مطابق رخ بدلتی ہے۔
بہت دلچسپ رہی آج کی کسوٹی۔
اگلے ہفتے کو پھر سے زیک بھائی کی باری۔
یہ کیا بات ہوئی بھلا۔۔۔ اب بندہ جس کو دیکھنا چاہے ، بھتنی کو دیکھ لے کیا؟
ویسے بھی اخروٹ کا درخت پتوں اور اخروٹوں سے بھرا ہوا ہے۔ بھتنی کو کہاں ڈھونڈیں اس میں۔