دادا مرحوم کی ایک غزل، احبابِ محفل کے ذوق کی نذر :
حقیقت جو پوچھو تو یہ زندگانی
فریبِ مسلسل کی لمبی کہانی
ابھی اور ہونے دے یہ خون پانی
ابھی سے ہے رکھی کہاں کامرانی
مجھے تو وہی چاہئے غیر فانی
فقیری میں ہے جو شکوہِ کیانی
غمِ عشق اندر تو شعلہ بہ دل ہے
مگر آنکھ تک آ کے ہے پانی پانی
بیانِ غلط کا...