بنا ہے آپ سبب اپنی جگ ہنسائی کا
جو مشتِ خاک نے دعویٰ کیا خدائی کا
وہی ہے حال نگاہوں کی نارسائی کا
وہ سامنے ہیں پہ نقشہ وہی جدائی کا
تمہارے در کے سوا میں کسی جگہ نہ گیا
مجھے تو شوق نہیں قسمت آزمائی کا
یہی زمانہ مٹانے پہ تل گیا مجھ کو
جسے تھا ناز کبھی میری ہم نوائی کا
اسی نے غرق مجھے کر دیا...