بعض اوقات بچہ ہر طرف سے ایک ہی بات مختلف انداز سے سیکھتا ہے اور کنفیوز ہو کر رہ جاتا ہے۔
میری بیٹی نے کہیں سے جزاک اللہ سیکھا، کہیں سے شکریہ سیکھا اور کہیں سے تھینک یو۔ اب جب بھی کوئی اس کی خواہش کی تکمیل کرتا ہے تو جواب کچھ یوں ملتا ہے:
"تھینکو، چُکّیہ، جزاک اللہ"