میرا ایسا ہی کچھ تلخ تجربہ اسلام آباد کے ایک مانے ہوئے نیورو سرجن کا ہے کہ جن کے پاس ان کے ویٹنگ روم میں تین گھنٹے بیٹھنے کے بعد جب باری آئی تو موصوف میری شکل سے بیماری سمجھ گئے اور میری بات بھی پوری طرح نہ سنی. 3 منٹ میں، میں ان کے کمرے سے باہر تھا. ان کی مقبولیت کے سہارے ان کی دی گئی دوائی...