سمجھ سمجھ کر سمجھ کو سمجھنا ، سمجھ سمجھنا بھی اک سمجھ ہے
مختصر یہ کہ
حاضر ہُوں مدد کو جان و دل سے
کِیڑا ہوں اگرچہ مَیں ذرا سا
کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری
مَیں راہ میں روشنی کروں گا
اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے دِیا بنایا
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھّے
آتے ہیں جو کام دوسرں کے
سمجھ گئے...