ہم پہ الزام تو ویسے بھی ہے ایسے بھی سہی
نام بدنام تو ویسے بھی ہے ایسے بھی سہی
ہم پہ الزام تو ویسے بھی ہے ایسے بھی سہئ
اپنے زخموں کا فسانہ کیوں زمانے کو سنائیں
کیوں نہ ان سہمے لبوں پر گیت خوشیوں کے سجائیں
ہے تھکن سانسوں میں، جاگتی آنکھوں میں
غم کا پیغام تو ویسے بھی ہے ایسے بھی سہی
ہم پہ الزام...