پہلے دو بند تو قوم کا اجتماعی درد بیان کر رہے ہیں جس کو محسوس کرنے والے کم ہی ہیں.
مرہموں کی صورت میں زہر بھی ملے ہم کو
نشتروں کے دھوکے میں وار بھی ہوئے اکثر
منزلوں کی لالچ میں راستے گنوا ڈالے
رہبروں کی چاہت میں خوار بھی ہوئے اکثر
ہر فریبِ تازہ کو مسکرا کے دیکھا تھا
دل کو عہدِ رفتہ کےطور ابھی...