کوئی بھی لمحہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا
وہ شخص ایسا گیا پھر نظر نہیں آیا
وفا کے دشت میں رستہ نہیں ملا کوئی
سوائے گرد سفر ، ہم سفر نہیں آیا
پلٹ کے آنے لگے شام کے پرندے بھی
ہمارا صبح کا بھولا مگر نہیں آیا
کسی چراغ نے پوچھی نہیں خبر میری
کوئی بھی پھول مِرے نام پر نہیں آیا
چلو کہ کوچہء قاتل...