نتائج تلاش

  1. گُلِ یاسمیں

    اشعار - حروف تہجی کے لحاظ سے

    ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی ہو دیکھنا تو دیدہ ء دل وا کرے کوئی منصور کو ہوا لب گویا پیام موت اب کیا کسی کے عشق کا دعوی کرے کوئی
  2. گُلِ یاسمیں

    اشعار - حروف تہجی کے لحاظ سے

    طرز کلام ان کا ہوا طرز خاص و عام بدلیں گے اب وہ بات کا انداز کس طرح ( امجد اسلام امجد)
  3. گُلِ یاسمیں

    میرے پسندیدہ اشعار

    میرے لیے تو حرف دعا ہو گیا وہ شخص سارے دکھوں کی جیسے دوا ہو گیا وہ شخص میں آسماں پہ تھا تو زمیں کی کشش تھا وہ اترا زمین پر تو ہوا ہو گیا وہ شخص میں اس کا ہاتھ دیکھ رہا تھا کہ دفعتا سمٹا ، سمٹ کے رنگ حنا ہو گیا وہ شخص پھرتا ہے لے کے آنکھ کا کشکول در بدر دل کا بھرم لٹا تو گدا ہو...
  4. گُلِ یاسمیں

    میرے پسندیدہ اشعار

    کوئی بھی لمحہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا وہ شخص ایسا گیا پھر نظر نہیں آیا وفا کے دشت میں رستہ نہیں ملا کوئی سوائے گرد سفر ، ہم سفر نہیں آیا پلٹ کے آنے لگے شام کے پرندے بھی ہمارا صبح کا بھولا مگر نہیں آیا کسی چراغ نے پوچھی نہیں خبر میری کوئی بھی پھول مِرے نام پر نہیں آیا چلو کہ کوچہء قاتل...
  5. گُلِ یاسمیں

    اشعار - حروف تہجی کے لحاظ سے

    ضبط کا شوق بھی ہے عہد کا پیماں بھی ہے عہد و پیماں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے ضبط اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا اور سکوں ایسا کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
  6. گُلِ یاسمیں

    اشعار - حروف تہجی کے لحاظ سے

    صحن گلشن کا یہ عالم تھا کہ جب آندھی ر کی ہر طرف بکھرے ہوئے کچھ تتلیوں کے پر ملے
  7. گُلِ یاسمیں

    اشعار - حروف تہجی کے لحاظ سے

    شمار میں نہ کروں گا فراق کے شب و روز وہیں سے بات چلے گی جہاں سے ٹوٹی تھی
  8. گُلِ یاسمیں

    اشعار - حروف تہجی کے لحاظ سے

    سوچا کئے کہ ٹوٹ نہ جائے کسی کا دل گزری ہے اپنی عمر اسی دیکھ بھال میں خالد وہ۔ بات تو اب اسے یاد بھی نہیں ہم جی کو خون کر گئے جس کے ملال میں
  9. گُلِ یاسمیں

    اشعار - حروف تہجی کے لحاظ سے

    زندگی بھر نہ ہوا ختم قیامت کا عذاب ہم نے ہر سانس میں برپا نیا محشر دیکھا اتنا بے حس کہ پگھلتا ہی نہ تھا باتوں سے آدمی تھا کہ تراشا ہوا پتھر دیکھا ( محسن نقوی)
  10. گُلِ یاسمیں

    اشعار - حروف تہجی کے لحاظ سے

    رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے درد پھولوں کی طرح مہکے اگر تو آئے
  11. گُلِ یاسمیں

    منتخب اشعار برائے بیت بازی!

    ابھی تلک جو خواب تھے چراغ تھے گلاب تھے وہ رہگزر کوئی نہ تھی کہ جس پہ تو ملا نہیں ( ادا جعفری)
  12. گُلِ یاسمیں

    میرے پسندیدہ اشعار

    یہی نہیں کہ زخم جاں کو چارہ جو ملا نہیں یہ حال تھا کہ دل کو اسم آرزو ملا نہیں ( ادا جعفری)
  13. گُلِ یاسمیں

    میرے پسندیدہ اشعار

    خزاں کی دھند میں لپٹے ہوئے ہیں شجر مجبوریاں پہنے ہوئے ہیں یہ کیسی فصل گل آئی چمن میں پرندے خوف سے سہمے ہوئے ہیں ( امجد اسلام امجد)
  14. گُلِ یاسمیں

    میرے پسندیدہ اشعار

    ہنسی کے رنگ بہت مہربان تھے لیکن اداسیوں سے ہی نبھی خمیر ایسا تھا
  15. گُلِ یاسمیں

    میرے پسندیدہ اشعار

    بے مقصد سب لوگ مُسلسل بولتے رہتے ہیں شہر میں دیکھو سناٹے کی دہشت کتنی ہے لفظ تو سب کے ایک جیسے ہیں کیسے بات کھلے دنیا داری کتنی ہے اور چاہت کتنی ہے
  16. گُلِ یاسمیں

    میرے پسندیدہ اشعار

    نہ دید ہے نہ سخن ، نہ حرف ہے نہ پیام کوئی بھی حیلہء تسکین نہیں اور آس بہت ہے امید یار ، نظر کا مزاج ، درد کا رنگ تم آج کچھ بھی نہ پوچھو کہ دل اداس بہت ہے
  17. گُلِ یاسمیں

    میرے پسندیدہ اشعار

    گھاؤ گنتے نہ کبھی زخم شماری کرتے عشق میں اگر ہم بھی وقت گزاری کرتے وقت آیا ہے جدائی کا تو پھر سوچتے ہیں تجھ کو اعصاب پر اتنا بھی نہ طاری کرتے
  18. گُلِ یاسمیں

    میرے پسندیدہ اشعار

    دل کا موسم کبھی غیروں پر عیا ں کرتے نہیں ٹوٹ کر بکھرے مگر ضبط کی آغوش میں رہے وہ تیرا ظرف تھا تو شعور کے پہلو میں رہا ظرف یہ اپنا ہے ہم آج بھی خاموش رہے
  19. گُلِ یاسمیں

    میرے پسندیدہ اشعار

    بس اٹھ کے چل دیے چپ چاپ کچھ کہا نہ سنا کوئی طریقہ ہے یہ ، اس طرح بچھڑتے ہیں
  20. گُلِ یاسمیں

    میرے پسندیدہ اشعار

    خود پیاس کا صحرا ہوں مگر دل کی یہ ضد ہے ہر دشت پہ ساون کی طرح ٹوٹ کے برسوں
Top