بہت خوب تحریر ماشاءاللہ۔ ماں کی ہستی کو چند الفاظ میں سمونا ناممکن کام ہے۔ مگر آپنے بھی دریا کو کوزے میں بند کرنے میں کسر نہ چھوڑی۔ اللہ سبحان و تعالیٰ سلامت رکھے آپکو۔ میں نے عرصہ پہلے اپنی والدہ کے لیئے ڈائری میں یہ شعر لکھا تھا
گو میں رہا رہین ستم ہائے روزگار
لیکن تیرے خیال سے غافل نہیں رہا...