میں نے دیکھا تھا ان دنوں میں اسے
جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا
اُس کی پلکوں سے نیند چھنتی تھی
اُس کا لہجہ شراب جیسا تھا
اُس کی زلفوں سے بھیگتی تھی گھٹا
اُس کا رُخ ماہتاب جیسا تھا
لوگ پڑھتے تھے خال و خد اُس کے
وہ ادب کی کتاب جیسا تھا
جب وہ ہنس ہنس کے بات کرتا تھا
دل کے خیمے میں رات کرتا تھا
رنگ پڑتے...