چمن سے، برق و شرر سے خطاب کرتا ہوں
شعور و فکر و نظر سے خطاب کرتا ہوں
قدم قدم پہ کھلاتا ہوں گل معانی کے
جہانِ شمس و قمر سے خطاب کرتا ہوں
جبیں پہ سطوتِ الہام کے تقاضے ہیں
زبانِ قلب و جگر سے خطاب کرتا ہوں
میں ایک مردِ قلندر میں ایک دیوانہ
طلوعِ نورِ سحر سے خطاب کرتا ہوں
مزاجِ شبنم و لالہ سے بات...