سٹوڈنٹ ایک جامع لفظ ہے جو تذکیر و تانیث کے بغیر اپنا معنی واضح کرتا ہے۔ اردو میں اس کی تانیث "طالبہ" ہے اور تذکیر طالبعلم۔ اگر اس کو ہم طالب اور طالبہ تک لا سکیں تو پھر بہتر رہے گا
یہی تو مسئلہ ہے کہ سوال پوچھنے کو منہ کھولا جائے تو مولوی غصہ ہوتے ہیں کہ ہمارے سامنے منہ کھولا
اب آپ یہ بتائیے کہ کتنی احادیث ایسی ہیں جن کے متن تمام فقہوں میں یکساں ہیں
آپ پوری کوشش کر لیجئے، میرے منہ میں اپنے الفاظ نہیں ڈال سکتے :)
میں نے صرف یہ پوچھا ہے کہ حدیث کی صداقت کا معیار کیا قرآن کے برابر ہے یا نہیں؟ پس نوشت یہ بھی بتا دیا کہ قرآن کے بارے اللہ کی یقین دہانی ہے کہ اس میں تحریف نہیں ہوگی۔ حدیث کے بارے میری معلومات کم تھیں تو پوچھ لیں۔ اب "صاحبانِ علم"...