نئے وقتوں کی بات ہے۔ کہ کہیں اک شاعر رہتا تھا۔ چپ چپ رہنا کسی سے کچھ نہ کہنا اسکی عادت تھی۔ اکثر خود کلامی میں دعوی کرتا پایا جاتا تھا کہ ہم جانتے ہیں کس نے کیا کہنا ہے۔ لیکن کوئی بھی اسکی اس صدا پر کان نہ دھرتا تھا۔ شائد سب سمجھتے تھے کہ ہجر کے آزار میں ہوش و خرد سے بیگانہ ہے۔
کرنا خدا کا یوں...