آپ کی محبت ہے ۔ورنہ خوشہ چینوں میں ہے اپنا نام تو ، جہاں ٹھنڈی چھاؤں دیکھی غریب الوطنی کا غم غلط کرنے بیٹھ گئے۔
دلا نزد کسے بنشیں ،کہ او از دل خبر دارد
بہ زیر آں درختے رو کہ او گلہا ئے تر دارد
:congrats:
دس ہزاری پذیرائیوں پر تو طغرہ آویزاں ہونا چاہیئے۔
میں اللہ کے حضور علم و حکمت کے لازوال الماس و مروارید اور محبتوں و شوخیوں کے موتیوں کی قدردانی کی توفیق کے لیے سر بسجود ہوں ۔ اور اپنے عزیز و مشفق دوست محمد وارث صاحب کو اس سنگ میل پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور دیگرتمام شارکین...
جی ہاں اس طرح مذکورہ متدارک بحر میں آرہا ہے میں نے غلطی کی۔ معذرت قبول کیجیے۔
دراصل میں "کانٹوں" میں سے و کے اسقاط کا ادراک نہیں کر سکا تھا یا یوں کہیے کہ اس کو قبول نہیں کرسکا تھا شاید اس کہ یہ اس بحر کی روانی میں حائل ہوتا محسوس ہوا تھا ۔
آداب۔
بے پرده عیب ہائے خود اظہار میکنیم
فرصت بہ عیب جوئیِ یاران نمیدہیم
صائب۔
اپنے عیوب خود ہی کیے ہم نےآشکار
یاروں کو عیب جوئی کا موقع نہیں دیا
منظوم ترجمہ۔
کونسی بحر میں کہا ہے ؟ بحر کا پابند کریں پہلے شعر کو۔۔۔
ویسے آپ کے اس شعر پر ایک اپنا شعر زبان پر آگیا۔
آبلوں سے جنوں کو ملا حوصلہ
کتنی ہی منزلیں بن گئیں رہگزر
تا آینہ رفتم کہ بگیرم خبر از خویش
دیدم کہ در آن آینہ ہم جز تو کسی نیست
ہوشنگ ابتہاج
میں آئینےکہ پاس گیا کہ اپنے آپ کی خبر لوں ۔
تو دیکھا کہ آئینے میں بھی تمہارے علاوہ کوئی اور نہیں۔