اے شیفتہ نویدِ شبِ غم سحر ہے آج
ہم تابِ آفتاب، فروغِ قمر ہے آج
آہنگِ دل پذیر سے مطرب ہے جاں نواز
آہِ جگر خراش کا ظاہر اثر ہے آج
دل سے کشادہ تر نہ ہو کیوں کر فضائے بزم
تنگیِ خانہ حلقۂ بیرونِ در ہے آج
فانوس میں نہ شمع، نہ شیشے میں ہے پری
ساغر میں جس بہار سے مے جلوہ گر ہے آج
پروانوں کا دماغ بھی...