تم نے دیکھی ہے وہ خوابوں کی راہگزر
جس کی منزل تھی اُجڑا ہوا نگر
سُر مئی شام تھی جس کے چاروں طرف
جس میں منظر جُدائی کے تھے صف بہ صف
وصل کا سربکف
بن گیا کرچیاں مَن کا نازک صدف
تو نے دیکھی ہے خوابوں کی وہ راہگزر
سنگ ریزوں کی بارش ہوئی تھی جہاں
اور کومل سے جذبے ہدف بن گئے
پائمالی نے ان کو...