آورکزئی صاحب ،!
اپنی تصاویر کے لیے ایک الگ دھاگا شروع کیجیئے اور تصاویر کے ساتھ ساتھ معلومات بھی فراہم کیجیئے تاکہ دھاگا عام محفلین کے لیے مفید بھی ہو جائے دلچسپ بھی ۔ کیا خیال ہے ؟
مجھے تو لگتا ہے صنم کے قبلیے کے بہت سے اور الفاظ بھی ہیں جو غزل میں گانوں گیتوں وغیرہ تاثر دیتے ہیں اور تغزل کے پختہ اثر کو زائل کرتے ہیں ۔ :)
ویسے اگرلفظ صنم بت کے معنوں میں ہو یا اصنام بتوں کے معنی میں ہو تو یہ تاثر پیدا نہیں ہوتا ۔
واہ بہت خوب نمرہ جی ۔
اس شعر سے لسان الغیب یاد آگئے ،
درمیان قعر دریا تختہ بندم کردہ ای
باز میگوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش
اور باقی غزل نے حسرت موہانی کی یاد تازہ کی ۔
تیری محفل سے اٹھاتاغیر مجھ کو کیا مجال
دیکھتا تھا میں کہ تو نے بھی اشارہ کردیا
سب غلط کہتے تھے لطف یار کو وجہ سکوں
درد دل اس...
ترکمن صاحب اردو یقینا ایک مکسچر ہے لیکن ہر مکسچر کے اجزائے ترکیبی میں ایک تناسب بھی ہوتا ہے اگر مکسچر میں اپنی مرضی سے تناسب رکھیں گے تو پتہ چل جاتا ہے ۔ :)
یہ مصرع بحر میں قید نہیں ہو رہا ۔ اسے پھرسے کہیں ۔
مطلع میں ماہرو آپ کو ساز تو دے سکتا ہے شام دینا عجیب بات ہے ۔"شام ہے" البتہ ہوسکتا ہے کہ شام کے وقت آپ کو جستجو ہوئی اور آپ نے ساز طلب کر لیا ۔
مقطع میں پورا شعر "مگر" کے لفظ کا محل نہیں بنا رہا ۔
میرے خیال میں رباعی کے اوزان کے مطابق بھی درست نہیں ۔
یہ آگ کا دریا ہے ذرا دیکھ کے چل ۔
اس طرح ( "یہ" لگانے سے )ایک مصرع رباعی کی حد میں آجاتا ہے ۔
واللہ اعلم ۔
خوش آمدید دیناری صاحب ۔ آپ غالبا ۔ محمد وارث صاحب کے بارے میں استفسار فرما رہے ہیں ۔
اردو کی اس محفل میں اپنے نمبر کا اعلان کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ البتہ آپ کو مطلوبہ نمبر شاید یہاں سے مل جائے ۔
محمد تابش صدیقی کچھ مدد کر سکیں گے اس ضمن میں ۔
خوش آمدید دیناری صاحب ۔ آپ غالبا ۔ محمد وارث صاحب کے بارے میں استفسار فرما رہے ہیں ۔
اردو کی اس محفل میں اپنے نمبر کا اعلان کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ البتہ آپ کو مطلوبہ نمبر شاید یہاں سے مل جائے ۔
محمد تابش صدیقی کچھ مدد کر سکیں گے اس ضمن میں ۔