وہ سراپا سامنے ہے، استعارے مسترد
چاند، جگنو، پھول، خوشبو اور ستارے مسترد
تذکرہ جن میں نہ ہو ان کے لب و رخسار کا
ضبط وہ ساری کتابیں، وہ شمارے مسترد
کشتیِ جاں کا ہے رشتہ جب کسی طوفان سے
سب جزیرے رائیگاں، سارے کنارے مسترد
اس کی خوشبو ہمسفر راہِ مسافت میں ہو گر
خواب، منظر، رہگزر، دریا، شرارے...