سحر نے رات کے اُس پار سے پکارا ہے
واہ واہ ۔بہت خوب ظہیر بھائی ۔
اللہ کرے یہ سحر آپ کے قلم کو یوں ہی اس پار سے صدا دیتی رہے اور ان شہہ پاروں کے صدور کو شہ دیتی رہے ۔
عدنان بھائی نے آہنی خوابوں کے لیے ویلڈنگ کا تذکرہ کیا ہے ۔ آپ کے خواب تو یقینا شیشے کے ہوں گے ۔ سو لوہے کی ویلڈنگ کا یہ حل آپ کے خوابوں کو مزید چکناچور نہ کر دے۔ دھیان رکھیے گا اے خان صاحب۔
مذکور و مونث میں کسی زبان کا کوئی حتمی قاعدہ نہیں۔
عربی میں سورج اور زمین مونث ہیں اور چاند مذکر۔
ویسے یہ خوبصورتی کے عنصر کو اس بحث میں طلب کیے جانے کے پیچھے جس 'مردانہ احساس کمتری' کی جھلک نظر آئی ۔ اس کے ازالے کے لیے تمام عالم حیوانات میں موجود اصناف پر ایک 'انصاف' کی نظر ڈالنے سے کسی افاقے...
امتیاز نام تو کبھی کسی مونث شخصیت کا نظر اور سماعت سے نہ گزرا البتہ کئی اور نام ایسے ہیں جو اردو میں دونوں اقسام میں مقبول ہیں ۔
ایمن تو مذکر نام ہے البتہ اردو میں شاید لاعلمی کے سبب (یا بلا کسی سبب :) ) مونث بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اصل میں اس کی تانیث یُمنیٰ ہے ۔ جیسے اکبر کی تانیث کُبریٰ ۔
دوسرے...
یاد رہے کہ میں نے تو یہ تبصرہ یا مراسلہ بھی گزشتہ ہفتے کی کراچی کی سردی کے پس منظر میں لکھا تھا جو آٹھ دس سیلسیئس کے آس پاس ہی تھا ۔ :)
ویسے کراچی والوں کے لیے یہی بہت ہے ۔(لطائف کے لیے بھی اور محسوس کرنے کے لیے بھی )۔
دنیا کے سرد ترین علاقوں میں اپنے کاموں میں تن دہی کے ساتھ مشغول افراد کو دیکھیں اور ہمارے سردی کے لطیفے دیکھیں ۔ رونا آجائے گا لطیفوں پر۔
ارے بھئی کوئی واقعی رونے نہ لگ جائے یہ بھی ایک لطیفہ ہی ہے کہ ہم اسی میں خوش ہیں ۔
لیکن یہ بھی تو دیکھیئے کہ امریکہ کے حمایت یافتہ عظیم مجاہدین ہی آج عظیم تر دہشت گرد ہیں یہ کوئی نئی بات تو نہیں ۔
بدلتا ہے رنگ "آسماں" کیسے کیسے
بر سبیل تذکرہ ۔
بچوں کے تو مشاہدے میں ہی تشدد کے رویّوں کا آنا ٹھیک نہیں ۔ تشدد کا یہ عنصر انسانی معاشرتی سوچ کے ہی خلاف ہے تاوقتیکہ کسی تشدد کے رد میں استعمال کرنا ضروری ہو جائے ۔
اور یہ تو انتہائی افسوسناک واقعہ ہے ۔بڑوں کا زیادہ قصور ہے کہ اتنے چھوٹے بچے مشاہدے سے ہی اپنی سوچ اور عمل متعین کرتے ہیں ۔