اب اُن سے اور تقاضائے بادہ کیا کرتا
جو مل گیا ہے میں اُس سے زیادہ کیا کرتا
بھلا ہوا کہ ترے راستے کی خاک ہوا
میں یہ طویل سفر پا پیادہ کیا کرتا
مسافروں کی تو خیر اپنی اپنی منزل تھی
تری گلی کو نہ جاتا تو جادہ کیا کرتا
تجھے تو گھیرے ہی رہتے ہیں رنگ رنگ کے لوگ
ترے حضور مرا حرفِ سادہ کیا کرتا
بس...
زبیر بھائی ۔۔۔۔ ہم پر الزام لگا رہے آپ۔۔۔۔۔۔ :)
بھلکڑ ، ظفری بھائی اور انیس الرحمن بھائی آپ زبیر بھائی کی اس بات کے کس حصے سے متفق ہیں؟ پہلے یا دوسرے؟ اگر پہلے سے ہیں تو خیر۔۔۔۔۔ لیکن اگر دوسرے حصے سے متفق ہیں۔۔۔ تو یہ آپ ظلم کر رہے ہیں۔۔۔۔ :)
تیری زلفوں کے بکھرنے کا سبب ہے کوئی
آنکھ کہتی ہے ترے دل میں طلب ہے کوئی
آنچ آتی ہے ترے جسم کی عریانی سے
پیرہن ہے کہ سلگتی ہوئی شب ہے کوئی
ہوش اڑانے لگیں پھر چاند کی ٹھنڈی کرنیں
تیری بستی میں ہوں یا خوابِ طرب ہے کوئی
گیت بنتی ہے ترے شہر کی بھرپور ہوا
اجنبی میں ہی نہیں تو بھی عجب ہے کوئی
لیے...
بہت خوب۔۔۔۔ :) ہم یہاں پر ہی ہوتے ہیں۔۔۔ کوئی مسئلہ ہو تو ہمارے علاوہ کسی کی بھی مدد لے سکتے ہیں۔۔۔ :)
خوش آمدید ہماری طرف سے اور غدیر زھرا کا بھی شکریہ۔۔۔۔ :)