انیس بھائی کے لیے کروٹ پر اشعار
آنکھوں پہ کھینچ کر ترے آنچل کے سائے کو
اوندھے پڑے رہیں، کبھی کروٹ لئے ہوئے
اور اک اور
منہ موڑا اور دیکھا کتنی دُور کھڑے تھے ہم دونوں
آپ لڑے تھے ہم سے بس اِک کروٹ کی گنجائش پر
گلزارؔ
"یہ وہ خاموش مجاہد تھے جن کے اوپر تاحال کوئی تحقیق نہ ہوئی، کوئی مقالہ نہ لکھا گیا، اور تو اور ان میں سے اکثر کا ذکر بعد از مرگ وفیات کی کتابوں میں بھی نہ آیا۔"
کیا ہی خوب الفاظ و خیال ہے۔۔۔ صد متفق ہوں۔۔۔ بچوں کے ناولز کے بارے میں جو آپ نے ارشادات فرمائے۔ میں نے جانا گویا یہ بھی مرے دل میں...
خوب تحریر ہے فرخ انیق صاحب۔۔۔ درست ہے کہ کسی کی بابت اندازے لگانے اور رائے قائم کرنے میں جلد بازی نہیں کرنے چاہیے۔۔۔ لکھتے رہیے۔ شاد رہیے۔ اللہ کرے زورِ رقم اور زیادہ :)
بہت خوب آواز ہے مہدی بھائی۔۔۔ دوسرے مصرعہ میں لکھا آپ نے "کنارِ دشت میں برسات کی گلابی شام" ہے۔ اور پڑھا "کنارِ دشت کے برسات کی گلابی شام" ہے۔۔۔ درست کون سا ہے۔۔
بہت اعلیٰ