یہاں سعودیہ میں اسے دلّہ کہتے ہیں اور یہاں کی چند ثقافتی علامات میں سے ایک معروف ترین شے ہے۔
لیکن یہ ڈھکن والا ہوتا ہے ۔
اس کا خادم حسین صاحب سے کوئی تعلق نہیں ۔
ہم اسے درانت یا درانتی (نون غنہ) کہتے ہیں اور ہاں ،
ہم اس سے فصل نہیں کاٹتے بلکہ گوشت کے خشک کباب بناتے ہیں ۔ اور اب عنقریب استعمال میں آیا ہی چاہتی ہے ۔
ہم نے بہت استعمال کیں ہیں یہ ۔ ہم انہیں رَلّی کہتے ہیں ۔
جبکہ سندھی زبان میں غالباََ یہ رِلّی کہلاتی ہے ۔ بیڈ شیٹ ہی نہیں بلکہ بلینکٹ کی طرح اوڑھنے کے کام بھی آتی ہیں کیوں کہ "لیئرڈ" ہونے کی وجہ سے کافی گاڑھی ہوتی ہیں ۔
یہ لیجیئے اس میں بلی کے بھاگ بھی آگئے ۔ بیچاری بلی خالی چھینکے کو ہی تک رہی ہے ۔ ویسے اس چھینکے میں ڈھکن نظر نہیں آرہا جو ہمارے چھینکے میں تو ہوا کرتا تھا ۔
ہمارے پاس بھی ہوا کرتا تھا ۔اور دودھ کی بالائی میرے ہاتھوں سے کبھی محفوظ نہ رہتی تھی ۔
ہم اسے نعمت خانے کے علاوہ گنجینہ بھی کہتے تھے کہ یہی ہمارے لیے گنج ہائے گرانمایہ رکھتا تھا ۔
جاسم یہ بات درست ہو سکتی ہے لیکن میری رائے یہ ہے کہ پڑھنے اور سیکھنے میں ابتدائی سہولت شرح خواندگی کو قومی سطح پر بڑھانے میں بنیادی اہمیت نہیں رکھتی ۔ یہ تو قومی حکمت عملی اور حکومتی و انتظامی ترجیحات کا ثمر ہے بھئی ۔