جی ہاں۔ ایک ہفتے ڈی جی سیمنٹ فیکٹری کی کالونی میں اپنی ٹیلیکوم کمپنی کی طرف سے کچھ ٹیکنیکل سروسز کے لیے ۔
ویسے میرے بڑے بھائی بھی وہاں اٹامک انرجی کمیشن میں کئی سال تک کام کرتے رہے ہیں ۔
ظہیر بھائی ۔ یہ پال لگانے کی روایت بھی زمانے کی تیزی کھا گئی ۔ جیسا کہ دھیمی آنچ پر پکانے کو پریشر ککر کھاگئے ۔ :)
مین بھی غزلوں کو دھیمی آنچ پر چڑھانے کو رکھنے کا قائل ہوں کہ نسیں بھی ہڈیاں چھوڑ دیں ۔ پر اب وہ ماہ و سال کہاں ! :)