فارغی شیرازی کے دو اشعار، دربارِ اکبری کے مؤرخ ملا عبدالقادر بدایونی کی کتاب "منتخب التواریخ" سے۔
جنوں آں عقد ہا در عشق بکشایَد بہ آسانی
کہ با صد گونہ محنت عقلِ دعویدار نکشایَد
جنوں، عشق میں، ایسے ایسے عقدے بہ آسانی وا کر دیتا ہے کہ ان گرہوں اور اسرار کو کھولنے کی دعویدار عقل، سخت محنت اور...
گر مُتّقیَم، کار بہ یار است مرا
با سبحہ و زنّار چہ کار است مرا
ایں خرقہٴ پشمینہ کہ صد فتنہ دروست
بارَش نہ کشم بدوش، عار است مرا
اگر میں متقی ہوں تو میرا کام صرف میرے یار ہی سے ہے(نہ کہ دنیا کو دکھانے کیلیے متقی بنا ہوا ہوں)۔ اس لیے مجھے تسبیح اور زنار سے کیا کام۔ یہ خرقہٴ پشمینہ کہ اس میں (ریا...
اس مصرعے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، روز اور اک علیحدہ علیحدہ ہی ادا ہو رہے ہیں، جس طرح آپ لکھ رہے ہیں اسطرح بے وزن ہو جائے گا۔ روز اک کو رو زک پڑھنا بھی غلط نہیں ہے، الف کا سقوط تو میر سے لیکر اب تک ہو رہا ہے بلکہ اس سے پہلے بھی، لیکن یہاں سلیم کوثر کے مذکورہ مصرعے میں یہ سقوط یا وصال نہیں ہو رہا...
درست ہے مزمل صاحب، تسکین اوسط والی بات درست ہے اور قریب قریب ہر جگہ ہی ممکن ہے لیکن جیسے اس بحر کیلیے یہ بات میری آنکھوں سے اوجھل تھی، اسی لیے کہا کہ علم میں اضافہ ہوا۔ :)
شاہد صاحب یہ بحر فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن ہے۔ اس کے شروع میں فعلاتن اور آخر میں فعِلن، فعلان، فعِلان بھی آ سکتے ہیں۔ بحث اس بات میں ہے کہ درمیانہ رکن فعلاتن، مفعولن کے ساتھ بدلا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اور اپنا مدعا میں اوپر بیان کر چکا۔