سنا نہیں پڑھا۔۔۔
اور شک نہیں بلکہ خدشہ تھا کہ کہیں تمہاری ہی پوزیشن نہ آ جائے۔۔۔ کہ ایسے تو ہم پہلے سے موجود نام نہاد شعرا کی روزی پر لات پڑ رہی ہے۔ :laughing:
واہ واہ واہ کیا خوب غزل ہے۔۔۔ یہ دو اشعار تو لاجواب ہیں:
نہیں لوٹتی جاں، مگر جانِ جاں تم
خدا را، بنامِ خدا لوٹ آؤ
سنو جانِ جاں میں نے اپنے بدن میں
اکیلے بہت رہ لیا، لوٹ آؤ
جھگڑا دانے پانی کا ہے، دام و قفس کی بات نہیں
اپنے بس کی بات نہیں، صیّاد کے بس کی بات نہیں
جان سے پیارے یار ہمارے قیدِ وفا سے چھوٹ گئے
سارے رشتے ٹوٹ گئے، اک تارِ نفس کی بات نہیں
تیرا پھولوں کا بستر بھی راہ گزارِ سیل میں ہے
آقا، اب یہ بندے ہی کے خار و خس کی بات نہیں
دونوں ہجر میں رو دیتے ہیں،...
شاکر، ساتھ ساتھ یہ بھی تو بتاؤ کہ جسے پہلا انعام ملا اس نے خود بتایا کہ اس نے وہ غزل کسی پختہ کار شاعر سے لکھوا کے پڑھی تھی۔ :)
اور اس پر میں نے ناعمہ سے یہ کہا تھا کہ اگر تم بھی کسی سے لکھوا کے پڑھ دیتیں تو شاید پہلا انعام بھی مل جاتا لیکن کیا اس سے وہ خوشی ہو سکتی تھی جو اس وقت تمہیں ہو رہی ہے...
جناب اعجاز صاحب، آپ جیسے بزرگ شاعر سے داد تو یوں بھی ہمیشہ ہی نہال کر دیتی ہے لیکن آج ان خفیہ دوست ریختہ کے مراسلے کے بعد تو جی باغ باغ ہو گیا۔
بہت شکریہ قبلہ سلامت رہیں۔ :)
کچھ دن قبل ناعمہ عزیز نے محفل کے تمام شعرا و شاعرات کو مخاطب کرتے ہوئے ایک دھاگا کھولا جس میں آل پنجاب انٹر کالجز مشاعرے میں اپنے کالج کی نمائندگی کے لیے نامزد ہونے کے اعزاز کے متعلق بتایا اور ساتھ ہی حد درجہ انکساری سے کام لیتے ہوئے محفل کے تمام شعرا و شاعرات کو غزل لکھ کر دینے کے لیے کہا لیکن...
یہ کون ہے کہ جس کے دل میں ہماری اس قدر محبت جاگی ہے کہ آج ہی اکاؤنٹ بنایا اور ایک ہی مراسلہ لکھا وہ بھی ہماری غزل پر اور اس میں اپنی کتھا لکھ ماری۔۔۔ ویسے اپنے تعارف کے لیے الگ زمرہ موجود ہے۔ ;)