آپ کے مراسلے میں یقین کی تکرار خوبصورت ہے۔
جوانی کا ہمیں علم الیقین ہے، آپ کو عین الیقین لیکن حق الیقین کسی کو بھی نہیں رہا اب اس عمر میں آ کر۔ :laughing:
بجا فرمایا آپ نے۔
ویسے ایک عجیب بات ہے کہ نقادوں کو پڑھیں تو اس معاملے میں معاملہ ہی مختلف ہے کہ کچھ نقاد ردیف میں معنوی اختلاف کو عیب مانتے ہیں اور کچھ حسن۔ اور جو عیب مانتے ہیں وہ بھی میر و غالب وغیرہ کے ہاں اسے حسن کہہ دیتے ہیں اور مجھ جیسوں کے ہاں آئے تو عیب۔ :laughing:
بہت شکریہ۔ ذرہ نوازی ہے آپ کی۔ :)
صبح صبح میری غزلیں دیکھ لیں، خدا کرے دن اچھا ہی گزرے ورنہ سارا الزام میری غزلوں پر ہی لگے گا۔ (برا دن گزرنے پر محاورہ بولا جاتا ہے نا کہ پتا نہیں صبح کس کا منہ دیکھا تھا) :laughing: